اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 125 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 125

۱۲۵ لوگوں کے گلے منڈھ دی گئی۔مرزا محمد اسمعیل صاحب مرحوم جو اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کارندہ تھے۔انہوں نے بھی خاندانی مکانات کے سامنے کی زمین کی بولی دے کر بہت ارزاں خرید لی۔مرحوم بیان کیا کرتے تھے کہ میں خوشی خوشی حضرت کے حضور گیا اور اپنی طرف سے بطور خوشخبری یہ خبر سنائی مگر حضرت نے فرمایا: سمعیل ! ہم نے یہ زمین کیا کرنی ہے۔آپ نے بے پوچھے کیوں خرید لی؟ ہمارے کس کام کی ہے اور ہمارے پاس تو روپیہ بھی نہیں۔“ مرزا اسمعیل صاحب بیان کیا کرتے تھے کہ میں بولی دے چکا تھا۔انکار ہوسکتا تھا نہ واپس کی جاسکتی تھی۔اور نہ ہی کوئی اور اسے خریدنے کو تیار تھا۔مجبوراً میں نے قرض و دام کر کے قیمت ادا کر دی مگر جب حضور کو میرے اس فعل کا علم ہوا تو حضور نے وہ ساری رقم ایک یا دو مرتبہ کر کے مجھے ادا کر دی۔اور وہ زمین اس سلسلہ کی اہم ضروریات میں کام آئی۔میرا اندازہ ہے کہ اگر آج یہ زمین خریدنی پڑتی تو موقعہ کے لحاظ سے کم از کم سو گنا زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی۔( شکتہ فصیل کا ملبہ مدرسہ احمدیہ مہمان خانہ اور الوخانہ وغیرہ کے مقامات پر ڈھاپ پر کرنے کے لئے ڈال دیا گیا تھا۔(از مؤلف ) سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی فرماتے ہیں کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جہاں آج کل مدرسہ احمدیہ ہے یہاں ایک پلیٹ فارم بنا ہوا تھا۔پہلے یہاں فصیل ہوا کرتی تھی۔گورنمنٹ نے اسے نیلام کر دیا۔اور اس ٹکڑے کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے خرید لیا۔جہاں تک مجھے یاد ہے یہ ٹکڑا زمین ستر روپوں میں خریدا گیا تھا۔حضرت خلیفہ اول ان دنوں جموں میں تھے جب آپ کو یہ اطلاع ہوئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ زمین خریدنا چاہتے ہیں تو غالباً آپ نے ہی روپے بھجوائے تھے اور آپ کے روپوں سے ہی یہ زمین خرید کی گئی تھی۔تعلیم اور ڈاک کے احوال گذشتہ تسلسل میں حضرت بھائی جی مزید لکھتے ہیں : تعلیم کا یہ حال تھا کہ اس خاندان اور اس سے تعلق رکھنے والوں کو الگ کر کے ( معمولی شد بد کے آدمی بھی ڈھونڈے نہ ملا کرتے تھے ) بمشکل ایک یا زیادہ سے زیادہ دو فیصدی معمولی نوشت و خواند کے آدمی مل سکتے ہوں گے۔صرف ایک ہی بالکل چھوٹا سا دیہاتی پرائمری سکول تھا جو ڈسٹرکٹ بورڈ کی طرف سے چلایا