اصحاب احمد (جلد 9) — Page 80
۸۰ دے گا بلکہ خود غیب سے ہمیشہ میری دستگیری و امداد فرمائے گا اور میں اس یقین سے پُر ہوں کہ وہ ذات والا صفات کبھی بھی مجھے ایسے دعوے کرنے اور بڑے بول بولنے والوں کا محتاج نہ ہونے دے گی۔“ میں نے یہ الفاظ چلتے چلتے بہت ادب سے ان کے گوش گزار کئے جس کے بعد وہ اپنے گاؤں کو چلے گئے اور مجھے اللہ کریم نے اپنے فضل بے پایاں سے اس مرحلہ پر بھی ثبات ونشاط بخش کر نوازا۔اور دارالامان ہی میں جگہ عطا فرمائے رکھی۔فالحمد للہ۔آپ کی اہلیہ محترمہ بیان فرماتی ہیں کہ تقسیم ملک کے بعد بچوں کو اپنے وطن میں جدی اراضی اور مکانات دیے جانے کا حکم ہوا۔حضرت بھائی جی سے بچوں نے کہا کہ آپ بھی وہاں تشریف لے چلیں۔آپ نے فرمایا کہ قریبا نصف صدی قبل چوہدری نتھو رام صاحب نے کہا تھا کہ ٹوٹے ہوئے باز و گلے کو آتے ہیں۔گو حالات وہ نہیں رہے لیکن میری غیرت برداشت نہیں کرتی کہ میں وہاں جاؤں گو بالاخر اس کے سوا چارہ اور ٹھ کا نہ نہیں رہا اور اس طرح ان کی بات ظاہر پوری ہو۔اس پر بچوں نے بھی وہاں جانا پسند نہیں کیا۔بھائی جی نے مزید بتایا کہ چوہدری صاحب سے پھر بھی ملاقات ان کے گاؤں اور گورداسپور میں ہوتی رہی۔مگرلیکھرام والی پیشگوئی کے ناقابل انکار واقعہ نے ان کے دل پر ایسا اثر کیا کہ پھر انہوں نے کبھی بھی مجھ سے مذہبی معاملہ میں گفتگو کرنے کی جرات نہ کی اور صداقت وحق کے سامنے یوں گردن ڈال دی کہ گویا تسلیم کے مقام پر کھڑے ہیں اور یہ بھی ان کی شرافت تھی۔بعد ازاں مجھے مرعوب کرنے کی غرض سے کئی قسم کی خبریں مجھے پہنچائی جاتیں۔چنانچہ والدین اور رشتہ دار میرے سسرال کو میرے خلاف مقدمات دائر کرانے کے لئے اکسایا کرتے۔ان پر زور بھی ڈالا۔مگر انہوں نے یہ کہتے ہوئے ایسی نجاست پر منہ مارنے سے عذر کر دیا کہ پہلے ہی 66 نہ معلوم کس پاپ کی سزا ہمیں بھگتنا پڑی ہے اور اپر ادھ ( ظلم ) کر کے ہمارا کہاں ٹھکا نہ ہو گا۔“ مگر میرے والد صاحب اور بعض عیار رشتہ داروں کو نہ معلوم کتنی جلن لی تھی کہ ان کے غضب کی آگ بجھنے میں ہی نہ آتی تھی۔اور وہ میرے در پے آزار ہی چلے جارہے تھے۔سمن آنے پر حضرت اقدس کا مشورہ نہ معلوم کتنے منصوبوں اور سازشوں میں ان کو نا کامی و نامرادی کا منہ دیکھنا نصیب ہوا۔اور آتش انتقام کہاں کہاں ان کو لئے پھرتی رہی۔کس قدر مال و منال ایسی حیلہ سازیوں کی انہوں نے نذرکیا۔