اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 69 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 69

۶۹ قادیان پہنچیں۔آجا کے آپ کی نگاہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر اٹھتی اور موقعہ ملنے پر آپ اس کے حضور گریہ و بکا کرتے قلبی کیفیت کتنی بھی چھپائیں بشر پر کچھ اثر ضرور نمایاں ہو جاتا ہے۔والدین چہرہ سے آپ کی قلبی حالت کو پڑھ لیتے تھے اور دنیوی امور میں مصروف کر کے آپ کی توجہ پھیرنے کی فکر کیا کرتے تھے۔مئی جون ۱۸۹۶ء میں والدہ محترمہ کے ہمراہ سانگلہ ہل اور چونیاں کے مابین آمد و رفت کا کٹھن سفر کرنے پر ایک عشرہ صرف ہوا۔اس سفر کی سختی اور شدت کا اندازہ ان الفاظ سے کیا جاسکتا ہے جو والدہ محترمہ کی زبان سے نکلے ہوئے آج بھی میں اسی طرح سن رہا ہوں جس طرح ان دنوں سنتا تھا کہ ”آپے ای مرجان گے جو جیٹھ پین کے راہ۔کہ جیٹھ کے مہینے کا سفر موت کے منہ میں جانے کے برابر ہوتا ہے اور اسی مقولہ سے اندازہ کیا کرتا ہوں کہ مئی جون ۱۸۹۶ء کا یہ واقعہ ہے۔یہ سفر خطرناک ویرانے جنگلوں کا تھا جس میں بعض چور اور ڈاکوؤں سے بھائی جی کا مقابلہ بھی ہوا۔والدہ آپ کی خدمات فرمانبرداری، جفاکشی اور دلیری سے بہت متاثر ہوئیں اور خاص شفقت کرنے لگیں اور بار باران خدمات کا ذکر کر کر کے سرد آہ بھر کر کہتیں کہ ایسا شیر بچہ کس مرض ( عشق اسلام ) میں مبتلا ہو گیا ہے۔یہاں والد صاحب نے آپ کو پھر اپنے کام میں لگا لیا۔ان کی خواہش تھی کہ کسی ملازمت کے جال میں پھنسا کر جکڑ دیں۔اتفاقا بڑی نہر میں نا کہ پڑ گیا اور اتنا بڑھا کہ بیسیوں دیہات سے مددمنگوانا پڑی۔حکام بالا کے طرف سے اطلاع ملنے پر والد، عمزاد بھائی اور آپ نے دوڑ دھوپ کر کے جلد تر اور تعداد میں زیادہ مددموقعہ پر پہنچائی اور دن بھر کی محنت سے خطرہ پر قابو پالیا گیا آپ کو کام کرتے اور کراتے دیکھ کر انگریز اور دیسی حکام نے تعجب سے دریافت کیا کہ یہ لڑکا کون ہے اور کام کے اختتام پر افسر اعلیٰ نے آپ کو دس روپے انعام دے کر خوشنودی کا اظہار کیا۔والد کی نظر میں دس روپے کی رقم قابل التفات نہ تھی۔البتہ اچانک تبدیلی کے باعث آپ کی ملازمت کے متعلق ان کی توقعات پوری نہ ہو سکی تھیں۔اب اس واقعہ سے حکام کی نظروں میں کام چڑھ جانے سے کامیابی کی جھلک نظر آنے لگی۔افسران سے سفارشات حاصل کرنے کی کوشش کی۔امتحان کی شرط تھی۔والد سمجھتے تھے کہ بھائی جی امتحان میں بسہولت کا میاب ہو جائیں گے۔چنانچہ گوجرانوالہ میں امتحان کے لئے آپ کو بھیجا گیا۔وہاں مڈل کی سند کا مطالبہ ہوا۔مڈل میں آپ ناکام ہو چکے تھے۔اس طرح آپ کو پٹوار کے امتحان میں شمولیت کی اجازت نہ ملی اور والد کو آپ کی ناکام واپسی ناگوار گذری۔