اصحاب احمد (جلد 9) — Page 32
۳۲ قادیان پہنچ کر حضرت اقدس کے دربار میں حاضر ہونے میں جتنی روک مقامی بازار کے ہندوؤں کی طرف سے مجھے پیش آئی وہ مجھے کبھی نہیں بھولی۔ایک انسان۔ایک اجنبی اور نو وار دکو روکنے کے جس قدر بقیہ حاشیہ کم از کم دو دن پہلے شروع ہوا ہوگا۔رفقائے سفر میں سے قادیان والوں کے نام ایک روز (۲۹ ستمبر کو ) بھی تجویز ہوئے ہوں تو یہ قرین قیاس معلوم نہیں ہوتا اور نہ احتیاط کا پہلو لئے ہے کہ ایک شخص جس کی شکل ہندوانہ ہے۔نوعمر ہے۔اس کے حالات کا عملاً قادیان میں کسی کو علم نہیں ، قبول اسلام کے دو دن بعد اس کا نام بطور رفیق سفر تجویز ہو جائے۔البتہ چند دن گزرنے پر ممکن ہے۔چنانچہ میرے نزدیک اس سے قبل جمعہ کے روز یعنی ۲۰ ستمبر کو بھائی جی قادیان پہنچ چکے ہوں گے اور نو دس دن میں احباب کرام بھائی جی کے حالات سے مطمئن ہو چکے تھے۔اس امر پر غور کرتے ہوئے بھائی جی کی بعد کی مخلصانہ حالت مدنظر نہیں رکھنی چاہئے۔بلکہ آپ کے اولین ورود کے حالات پر غور کرنا چاہئے جس سے وہی نتیجہ نکلتا ہے جو میں نے عرض کیا ہے۔بھائی جی کا بیان اس بارے میں یہ بھی ہے کہ فرق ہوگا تو دنوں یا زیادہ سے زیادہ ہفتوں کا ہوگا۔آپ کا بیان بہ نظر غائر دیکھنے سے بہر حال یہ معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کے ایا م ۶ ۱۳۰ ، یا ۲۰ ستمبر میں سے کسی روز آپ قادیان وارد ہوئے۔اس بیان کا خلاصہ میں ذیل میں درج کرتا ہوں اور اس بیان کے مدنظر انداز أجو تاریخ بنتی ہے وہ اپنی طرف سے خطوط واحدانی میں درج کر دی ہے جس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ۶ ۱۳ یا ۲۰ ستمبر میں سے کسی تاریخ کو آپ قادیان آئے تھے۔حسب وعدہ بھائی جی ۱۸ جون ۱۸۹۵ء کوسید بشیر حیدر صاحب کے پاس پہنچے اور تین روز بعد ( گویا -1 -٢ ار جون) کو کپورتھلہ چلے گئے جہاں سے چند روز بعد (انداز ا۵ ارجون کو ) سسرال چلے گئے۔سسرال میں ایک ماہ ( گویا ۱۰ جولائی تک ٹھہرے۔پھر ایک روز میں (گویا ا ار جولائی کو ) سیالکوٹ پہنچے۔کچھ عرصہ بعد رقم ختم ہوتی نظر آئی (جسے ہم اندازا ہیں دن سمجھ لیتے ہیں گویا ۳۱ / جولائی کو ) پشاور تایا صاحب کے پاس چلے گئے اور ایک ماہ اس سفر میں خرچ ہوا۔گویا ۳۱ را گست تک آپ سیالکوٹ واپس آگئے۔)۔چند ہی روز بعد ( گویا ۵ ستمبر کے لگ بھگ ) آپ نے اظہار اسلام پر آمادگی ظاہر کی اور اسی شام کو قادیان روانہ ہو گئے۔روانگی کا دن جمعرات تھا۔( گویا ۶ ستمبر کو بروز جمعہ قادیان پہنچ گئے۔) تفصیل سے ظاہر ہے کہ ممکن ہے حضرت بھائی جی ۶ ستمبر کو پہنچے ہوں ورنہ ۱۳ یا ۲۰ ستمبر کو۔واللہ اعلم بالصواب