اصحاب احمد (جلد 9) — Page 418
۴۱۸ باوجود انکار کرنے کے اور عدم ضرورت کا اظہار کرنے کے چائے وغیرہ سے تواضع کر کے خوشی محسوس کرتے۔۱۹۵۵ء میں سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ سفر یورپ پر بغرض علاج تشریف لے جانے کے لئے کراچی پہنچ چکے تھے کہ حضرت بھائی جی کو وہاں بلوایا تا پہلے سفر یورپ کی طرح ساتھ لے جاسکیں۔اور حضور کے حکم سے آپ کا بین الاقوامی پاسپورٹ تیار کرایا گیا۔لیکن غالباً آپ کی ضعیف العمری کے باعث اس ارادہ میں تبدیلی فرمالی۔اس موقعہ پر بھائی جی سے کوئی بات حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے میرے کام کے تعلق میں بہت خوشکن بیان فرمائی۔آپ پھولے نہ سمائے اور فوراً مجھے بذریعہ خط اس کی اطلاع دی۔اس سے مجھے آپ کی شدید محبت کا احساس ہوا۔الحمد للہ کہ مجھے بھی آپ کی بہت سی خدمت کرنے کا موقعہ ملا ہے۔اور بہت سے اور درویشوں کو بھی۔اصحاب احمد کے کام میں آپ نے ہمیشہ بیش قیمت مشورے دیئے اور اس بارہ میں نظر ثانی وغیرہ کے لئے آپ ہمیشہ آمادہ رہتے تھے۔اور خوشی محسوس کرتے تھے۔چنانچہ جلد اول کا سارا مسودہ آپ نے اپنا قیمتی وقت صرف کر کے سنا۔اسی طرح جلد دوم کی بہت سی روایات کے متعلق میں نے مشورے کئے۔جلد اول میں مقامات مقدسہ کے جو نقشے درج کئے گئے ہیں وہ آپ ہی کی زیر نگرانی تیار ہوئے تھے۔آپ اس امر کے لئے ہمیشہ مستعد رہتے تھے۔اور اس میں بہت لذت وسرور محسوس کرتے تھے کہ احباب وزائرین کو مسجد مبارک اور دارا مسیح دکھائیں۔اور بتائیں کہ حضور بیت الفکر سے مسجد مبارک میں اس کھڑکی سے داخل ہوتے۔کس کس مقام پر کھڑے ہو کر حضور نے نمازیں ادا کیں۔اور حضور کی نشست کہاں ہوتی تھی۔مسجد اقصیٰ میں کس مقام پر حضور نے خطبہ الہامیہ دیا وغیرہ۔بہت کچھ تفصیل بیان فرماتے تھے تا آئندہ نسلیں ان باتوں کو محفوظ رکھ سکیں۔نو دس سال قبل آپ نے بڑے باغ کے شمالی حصہ میں اس جگہ کی نشان دہی کی تھی جہاں حضرت خلیفہ اول کا انتخاب عمل میں آیا۔اور جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جنازہ مبارک رکھا گیا۔اور جہاں حضور کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔چنانچہ ایک جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ایک جنازہ کی نماز سے قبل اس جنازہ گاہ میں مختصر کلمات میں حضرت عرفانی صاحب نے بھی اس نشاندہی کی تصدیق کی تھی خاکسار اس موقعہ پر موجود تھا۔بھائی جی نے اس جگہ کو گول چکر کی شکل میں بنوا کر وہاں پودے لگوائے اور مہینوں کئی کئی گھنٹے اکیلے یا کسی کو خود تحریک کر کے اپنے ساتھ لے جا کر وقار عمل کرتے۔جگہ ہموار کرتے مٹی اٹھا اٹھا کر ڈالتے۔پودے لگاتے ، گھاس صاف کرتے اور پانی ڈالتے اور بار بار دیکھنے میں آیا کہ ضعیف العمری میں ایسی مشقت کرنے سے