اصحاب احمد (جلد 9) — Page 413
۴۱۳ جو بات نکلتی ہے وہی دوسرے کی زبان پر جاری وساری ہے۔میں نے حضرت بھائی جی کو یقین دلایا۔اور کہا کہ بھائی جی ایسا ہی ہوگا۔خواہ کوئی اور کرے یا نہ کرے۔بھائی جی نے فور میری بات کاٹتے ہوئے بڑے لطیف پیرائے میں فرمایا کہ نہیں ایسا مت کہو بلکہ یہ کہو کہ انشاء اللہ میں ایسا ہی کروں گا۔اس واقعہ کو میں جب دھیان میں لاتا ہوں اور غور کرتا ہوں تو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اقدس کے اصحاب رضی اللہ عنہم جسمانی طور پر الگ الگ وجو د تھے۔مگر ان کی رگوں میں ایک ہی خون جاری و ساری تھا یا وہ ایک آواز تھی جو ریکارڈ کی گئی ہو۔جس کا ایک ریکار ڈ امریکہ میں اور ایک مصر میں بج رہا ہو۔تو دوسرا لندن میں اور تیسرا کینیڈا میں مگر آواز ایک الفاظ ایک،صرف ریکارڈوں کے ٹکڑے یا حصے الگ الگ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ؎ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس ޏ بہتر غلام احمد ہے اس کے اور مفہوم کے علاوہ میری ناقص عقل میں یہ بات آئی کہ حضرت مسیح کے حواریوں کا احوال ہمارے سامنے ہے وہ بھی حواری تھا جس نے مسیح کے ساتھ غداری کی۔اور حضرت مسیح موعود کی شان کس قدر بلند اور اعلیٰ نظر آتی ہے کہ آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم زندگی میں پروانہ وار جان چھڑ کتے ر ہے۔وفات کے بعد حضرت اقدس کا ذکر ان کی زندگی کی نشو و نما کرنے کا باعث تھا۔اور حضرت یعقوب کی طرح جیسے ان کو حضرت یوسف کی خوشبو آتی تھی۔اسی طرح مسیح دوراں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد آپ کے اصحاب کو حضرت اقدس کی اولادوں اور نسلوں کے پسینے سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خوشبو آتی اور وہ ان کی پیشانیوں پر اپنے آقا کے نور کی ضیا پاتے تھے اور پاتے ہیں انہیں آپ کی اولادوں اور نسلوں کی پشت پر حضرت مسیح موعود کی مہر ثبت نظر آتی تھی اور پھر مرنے کے بعد اولو العزم اور برگزیدہ ہستی کے قدموں میں دفن ہونے کے لئے دنیا کے کناروں سے بھی ان کے تابوت آجاتے ہیں۔انہوں نے زندگی میں دل و جان اور مال سب کچھ نچھاور کیا بعد مردن اپنی خاک اس کے مرقد مبارک کے پاس محفوظ کر دینے کی وصیت کر کے رخصت ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے مردہ جسموں کو مسیح پاک کے پاس پہنچا دیا اس مناسبت سے بھی حضرت مسیح موعود کا مقام حضرت مسیح ناصری سے بدرجہ اتم اعلیٰ وارفع نظر آتا ہے۔