اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 410 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 410

۴۱۰ - بناء پر آپ ہمارے خاندان کے ہر فرد سے محبت اور شفقت کا برتاؤ کرتے تھے اس سے اندازہ کیا جاسکتا کہ حضرت بھائی جی کا جذبہ محبت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان سے کس قدر گہرا اور شدید ہوگا۔آپ عالم شباب سے ادھیڑ عمر تک ہنس مکھ اور ہشاش بشاش اور چست و چالاک تھے آپ کی پیشانی پر کبھی بل نہیں پڑتا تھا۔وہ بات بھی ہمیشہ ہنس کر کرتے تھے۔قادیان کی تمدنی زندگی اس وقت ایسی ہی تھی جیسی کسی نہایت چھوٹے سے غیر متمدن گاؤں کی۔راتوں کو چوریوں کی وارداتیں بھی ہوتیں۔ایک مرتبہ چوریوں کی وارداتیں روزانہ سننے میں آئیں۔چوری ہوتی یا نہ ہوتی۔مگر چور آتے ضرور۔اور لوگ ہوشیار ہو جاتے۔حضرت بھائی جی ان ایام میں راتوں کو تنہا ہا تھ میں ایک لمبا سا لٹھ لے کر نکلتے ، محلے کے دوستوں کو پکارتے۔بعض گھروں کا دروازہ بھی کھٹکھٹاتے۔خصوصا ہمارے اور محترم مولوی رحمت علی صاحب مبلغ انڈونیشیا کے گھر کا۔صاحب خانہ دریافت کرتا کہ کون ہے تو جواب میں پہلے فرماتے عبدالرحمن۔پھر السلام علیکم اور بعد میں تاکید فرماتے کہ ہوشیار رہنا اور چلے جاتے۔یہ ان کی عادت تھی کہ جب بھی وہ کسی کے مکان پر دستک دیتے تو عام طور پر بہت زور دار آواز میں۔” میں عبد الرحمن ہوں اور پھر السلام علیکم کہہ دیا کرتے تھے ورنہ عام طور پر لوگ کسی کے مکان پر دستک دیتے ہیں تو صاحب خانہ کے دریافت پر دستک کنندہ کہتا ہے ” میں ہوں “ جو آداب اور اخلاق کے لحاظ سے غلط ہے۔آپ خشک مزاج مولویوں کی طرح نہ تھے۔بلکہ زندہ دل اور ہشاش بشاش تھے آپ کا مزاح نہ بلا وجہ ہوتا اور نہ ہی اس میں تکدر اور پھیکا پن ہوتا۔آپ میں کھلاڑیوں کی سی روح( Sportman's Spirit حد درجہ موجود تھی۔آپ سپاہیانہ زندگی کے خوگر تھے۔قادیان میں ہائی سکول اور مدرسہ احمدیہ کے درمیان اکثر مقابلے اور ٹورنا منٹ ہوا کرتے۔جن میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی خصوصیت سے حصہ لیتے تھے۔یا یوں کہئے کہ ان کی سر کردگی اور اہتمام میں یہ مقابلے اور ٹورنامنٹ وغیرہ سرانجام پاتے اور بسا اوقات حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بھی دیکھنے کے لئے تشریف لے جاتے۔ان کھیلوں میں سے مثلاً گولہ پھینکنا اور اونچی چھلانگ وغیرہ کے مقابلوں میں بھائی جی حصہ لیا کرتے تھے۔اور اس وقت بھی میری آنکھوں کے سامنے وہ منظر ہے۔مسجد نور اور بورڈنگ ہاؤس کے سامنے والے میدان میں بڑ کے درخت کے قریب اونچی چھلانگ میں آپ سفید شلوار پہنے ہوئے اور شلوار کو کمر بند میں سمیٹ کر ٹانگا ہوا، جسم نگا ، لمبا سا بانس ہاتھ میں لے کر چھلانگ لگا رہے ہیں۔