اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 371 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 371

۳۷۱ خاکسار مؤلف هذا ۱۹۲۲ء میں مدرسہ احمدیہ میں تعلیم پانے کے لئے داخل ہوا۔اس وقت حضرت بھائی جی کی دکان مسجد مبارک کے سامنے موجودہ آہنی گیٹ کے متصل ایک چھوٹی دکان کے متصل جانب جنوب بڑی دکان تھی۔نمازوں کے لئے گزرتے ہوئے ہم دیکھتے تھے کہ چند دانے آم کے پڑے ہوتے تھے۔اس زمانہ میں قلمی آموں کا رواج بہت شاذ ہوگا تخمی آم پنجاب میں بکثرت ہوتے تھے۔بہت سالوں بعد کوٹھی دار السلام اور احمد یہ فروٹ فارم واقع محلہ دارالفضل میں قلمی آم لگائے گئے اور کوٹھی دار الحمد میں بھی۔احمد یہ فروٹ فارم میں ترانوے قسم کے قلمی آم کے تین سو چونسٹھ پیر موجود ہیں۔تقسیم ملک سے پہلے احمد یہ فروٹ فارم کے آم مقابلہ میں سندات پاتے رہے۔کمشنر صاحب کے عرصہ درویشی میں آنے پر خاکسار نے وہ سندات دکھا ئیں تو انہوں نے دیگر افراد سے اس کا قبضہ محکمہ زراعت کو دلا دیا۔اس طرح خاکسار کے عرض کرنے پر یہ برباد ہونے سے محفوظ رہا۔اس سے ہمیشہ ہی سینکڑوں من آم اترتے ہیں۔آمد کا اندازہ حضرت بھائی جی کی حقیقی آمد کا تعین آپ کے حصہ آمد کے چندوں سے ہوتا ہے۔جن کے بعض اندراجات ملتے ہیں۔فروری ۱۹۱۸ء تا مارچ ۱۹۱۹ یعنی چودہ ماہ کا حصہ آمد ( دسواں حصہ ) آپ نے پندرہ روپے ادا کیا۔گویا آمد ڈیڑھ سو روپیہ چودہ ماہ کی ہوئی۔گویا دس روپے ایک آنہ کے قریب ماہوار۔اس وقت آپ کے کاروبار پر دس گیارہ سال گزر چکے تھے۔ظاہراً آپ کے کاروبار کے فروغ پانے کی کوئی صورت نہ تھی۔آپ خدمت دین کے لئے کاروبار کے نقصان کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔۱۹۳۸ء میں آپ نے چار ماہ کا چندہ حصہ آمد صرف ایک روپیہ پیش کیا تھا۔پھر اسی سال میں تین روپے قرض لے کر آپ نے حصہ آمد دیا۔بار بار اپنے مکان کے کچھ حصے یکے بعد دیگرے رہن رکھ کر تعلیم وغیرہ کا انتظام کرنے پر آپ مجبور ہوتے رہے۔اس بارے تفصیل کے ساتھ ذکر اور جگہ کیا گیا ہے۔خاندان حضرت مسیح موعود کی خدمات اور متفرق خدمات سفر و حضر میں آپ کو خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام وسلسلہ احمدیہ کی خدمات کی سعادت حاصل ہوتی رہی۔متعدد امور کا ذکر اس کتاب میں کسی نہ کسی جگہ پر ہے۔