اصحاب احمد (جلد 9) — Page 366
خیال کیا: ۳۶۶ ۱ ابتدا ۱۸۹۸ء سے کئی سال تک آپ تعلیم الاسلام سکول میں ٹیچر رہے۔-۲- محمد اسمعیل و ماسٹر عبدالرحمن صاحب قادیانی کی طرف سے اعلان ہوا کہ ہم پانچ سالہ بچوں کو چھ ماہ میں قرآن مجید پڑھا سکتے ہیں۔بچے اس عرصہ میں ہر ایک اعراب والی کتاب کو صحت سے پڑھ سکیں گے۔آخر پر تصدیق ( حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب ہے کہ ”جہاں تک میرا تجربہ اور علم ہے مجھے یقین ہے کہ دونوں صاحب بہت نیک ہیں۔انشاء اللہ بچوں کے لئے ان کے مساعی مشکور ہوں گے۔“ البدر ۱۸ مئی ۱۹۰۳ء۔صفحہ ۱۲۷۔محمد اسمعیل صاحب سے مراد محمد اسماعیل صاحب سرساوی مدرس مدرسه تعلیم الاسلام ہیں۔“ - آپ اواخر ۱۹۰۳ ء تا اواخر ۱۹۰۷ء حضرت مرزا محمد احسن بیگ صاحب کے پاس راجپوتانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد پر ٹھہرے تا کہ ان کی اراضی کی آباد کاری میں مددد ہیں۔- حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی مالک وایڈیٹر اخبار الحکم نے بتایا کہ بھائی جی کو اس اخبار میں ۱۹۰۸ء میں مقرر کیا گیا تھا۔خصوصاً حضرت اقدس کے آخری سفر لاہور سے پہلے۔آپ ۱۷ / اگست ۱۹۰۸ ء تک اس اخبار میں کام کرتے رہے۔الحکم کی مالی تنگی کے باعث آپ وہاں سے فارغ ہوئے تو دکان کرنے کی طرف توجہ کی۔۵۔آپ کے یکم ستمبر ۱۹۱۰ء کے خط کے مطابق آپ مقروض تھے۔- وو سال ۱۹۱۰۱۱ میں بکڈپو کی فروخت کتب کا انتظام شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی دکاندار کے سپرد کیا گیا ہے۔۲۲۷ 66 ے۔دکان میں آپ کی کسی کے ساتھ شراکت تھی۔۸- بورڈنگ تعلیم الاسلام ہائی سکول میں آپ نے ۱۹۱۷ء میں دکان کھول لی تھی۔۲۲۹ ۹ - آپ کا ۲۰ جنوری ۱۹۱۸ ء تا ۲۸ / ستمبر ۱۹۲۰ء دوکان کا روز نامچہ خاکسار مؤلف کو اتفاقاً ایک جگہ ردی کا غذات سے مل گیا۔جس سے معلوم ہوا کہ اسوقت آپ اندرون شہر دکان کرتے تھے۔۱۹۲۰ء میں آپ کی سوڈا برف کی دکان تھی۔( مکتوبات اصحاب احمد جلد اول صفحہ ۶۸ کے مطابق حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے آپ نے اس کام کے