اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 365 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 365

۳۶۵ وجوہ معاش ۲۲۴ حضرت بھائی جی تحریر کرتے ہیں: ”میرے وجوہ معاش کبھی بھی مستقل اور معین نہیں ہوئے۔نہ میں مستقل تاجر رہا۔نہ ہی مستقل ملازم۔وجہ یہ کہ نیت ہمیشہ یہ رہی ہے کہ کسی طرح سے کبھی کوئی خدمت خاندان پاک کی مجھ سے ہو جائے۔اس نیت سے دکان کی تو عارضی۔تا کہ وقت پر آسانی سے چھوڑی جاسکے۔اور کام کیا تو ایسا کہ مجھے اصل غرض سے محروم نہ کر سکے۔“ ( چٹھی ۲۸ نومبر ۱۹۲۹ء فائل وصیت ) آپ نے کبھی دکان کر لی۔کبھی ملازمت۔کبھی کسی کے ساتھ دکان کی شراکت کر لی۔آپ لمبے عرصہ تک شدید مالی مشکلات سے دو چار رہے۔حضرت مصلح موعودؓ ان مالی تفکرات سے آپ کو آزاد کرانے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔چنانچہ حضور نے بعض دفعہ آپ کو ملازمت کیلئے توجہ دلائی۔حضور بعض دفعہ بحالی صحت کیلئے علاقہ بیٹ میں تشریف لے جاتے تھے۔ایک دفعہ موضع عالمہ سے جو قادیان سے چند میل کے فاصلہ پر ہے بھائی جی کو لکھا کہ کاروبار کے لئے میں نے پانچ صد روپیہ آپ کو مہیا کرنا تھا۔ساڑھے چار صد روپیہ کا انتظام ہو گیا ہے۔تین سال کے لئے آپ اسے امانت یا قرض تصور کریں۔بعد اختتام مدت یہ سرمایہ آپ کا ہو جائے گا۔اس بات سے بھی جماعت کی مالی حالت کا علم ہوتا ہے کہ حضور کو با وجود امام جماعت ہونے کے ایک بزرگ کی خاطر پانچ صدر وپیہ کی رقم کے مہیا کرنے میں کتنی مشکل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔جس نیت سے آپ نے مستقل کاروبار نہ کیا اور پھر اس نیت پر جس عزم بالجزم سے آپ عمل پیرار ہے اور نہ صرف آپ نے بلکہ آپ کے اہلبیت نے بھی ان صبر آزما حالات میں آپ کا ساتھ دیا۔ایسی استقامت اللہ تعالیٰ کے خاص فضل کے بغیر ممکن نہیں۔اسکی کچھ تفصیل الگ بیان کی جائے گی۔آپ کے معاشی حالات ۲۲۵ آپ کے معاش کی صورت حال ذیل کے کوائف سے واضح ہوتی ہے۔کسی کام کو آپ نے عار نہیں