اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 359 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 359

۳۵۹ آپ کو ان کی صحبت سے محروم کرتے ہوئے آپ کے پاس بھجوائے جار ہے ہیں۔پس اس نعمت کی قدر کریں اور دعاؤں اور نوافل پر پہلے سے بھی زیادہ زور دیں۔اور باہم اتحاد اور تعاون اور بزرگوں کے ادب کا وہ نمونہ قائم کریں جو اسلام آپ سے چاہتا ہے ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہمارا پیارا مرکز ہمیں کب واپس ملے گا۔مگر جب تک ہمیں وہ واپس نہیں ملتا۔ان بزرگوں کا وجود اور ان کے ساتھ آپ جیسے مخلص اور جاں شار درویشوں کا وجود اس شمع کا حکم رکھتا ہے جو ایک وسیع اور تاریک میدان میں اکیلی اور تن تنہار وشن ہو کر دیکھنے والوں کیلئے نور ہدایت کا کام دیتی ہے۔اگر آپ خلوص نیت اور سچی محبت اور پاک جذ بہ ء خدمت کے ساتھ قادیان میں ٹھہریں گے اور اپنے آپ کو احمدیت کا اعلیٰ نمونہ بنائیں گے۔تو نہ صرف خدا کے حضور میں آپ کی یہ خدمت خاص قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی بلکہ آنے والی نسلیں بھی آپ کے اس نمونہ کو فخر کی نظر سے دیکھیں گی۔درویشاں کے بارے آپ کے چشم دید حالات حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی ۱۲ مئی ۱۹۴۸ء کومستقل طور پر دوبارہ قادیان واپس تشریف لائے۔آپ نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں مفصل مکتوب ۳۱ رمئی کو تحریر کیا جس میں درویشان کے لیل و نہار کا نقشہ کھینچا: قادیان پہنچے ہیں روز ہوئے ہیں۔پہلا ہفتہ قریباً آٹھ ماہی جدائی کی حسرت وحرمان کی تلافی کی کوشش میں گزر گیا۔اور ماحول کی طرف نظر اٹھانے کی بھی فرصت نہ ملی دوسرے ہفتہ کچھ حواس درست ہوئے تو دیکھتا اور محسوس کرتا ہوں کہ ایک نئی زمین اور نئے آسمان کے آثار نمایاں ہیں۔ایک تغیر ہے عظیم ، اور ایک تبدیلی ہے پاک، جو کہ یہاں کے ہر درویش میں نظر آتی ہے۔چہرے ان کے چمکتے۔آنکھیں ان کی روشن۔حو صلے ان کے بلند پائے۔نمازوں میں حاضری سو فیصدی۔نمازیں نہ صرف رسمی بلکہ خشوع خضوع سے پُر دیکھنے میں آئیں۔رقت وسوز، یکسوئی و ابتال محسوس ہوا۔مسجد مبارک دیکھی تو پر۔مسجد اقصیٰ دیکھی تو بارونق۔مقبرہ بہشتی کی نئی مسجد جس کی چھت آسمان اور فرش زمین ہے۔وہاں گیا تو ذاکرین و عابدین سے بھر پور پائی۔ناصر آباد کی مسجد ہے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے آباد ہے۔اذان واقامت برابر پنجوقتہ جاری۔مساجد کی یہ آبادی اور رونق دیکھ کر الہی بشارت کی یاد سے دل سرور سے بھر گیا۔اور امید کی روشنی دکھائی دیتی ہے، نہ صرف یہ کہ فرائض کی پابندی ہے، بلکہ نوافل میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے