اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 344 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 344

۳۴۴ میں ہنود میں تبلیغ اسلام کرنے کی بھی درخواست کی گئی۔حضور نے جواب میں تقریر فرمائی اور تبلیغ کے اس پہلو پر بھی توجہ کرنے کا وعدہ فرمایا۔۲۰۴ ۲۱- حضرت بھائی جی کی ڈائریوں کی مقبولیت سفر یورپ ۱۹۲۴ء کے بارے میں حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی فرماتے ہیں کہ: مجھے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی ہمرکابی کا شرف حاصل ہوا اور سعادت وعزت میسر آئی۔ڈائری نویسی میرا فرض منصبی نہ تھا۔بلکہ محض شوق ذاتی کی وجہ سے اور احباب تک ان کے محبوب کے بعض حالات پہنچانے کی سعی میں کچھ لکھتا رہتا تھا۔جو ابتداء اپنے بڑے لڑکے عزیز عبد القادر کے نام بھیجتا تھا۔مگر جب میرا لکھا ہوا پہلا خط ہی قادیان پہنچا اور وہ عزیز نے بعض احباب اور بزرگوں کو بھی دکھایا تو قادیان سے تقاضا ہوا اور امیر صاحب جماعت قادیان کی طرف سے حکم پہنچا کہ میں ایسے خطوط براہ راست ان کی خدمت میں بھیجا کروں۔تا کہ تمام دوست اپنے مقدس و محبوب آقا کے حالات سے مستفیض ہوسکیں اور کہ میرے خطوط جب پہنچتے ہیں تو باقاعدہ اعلان کر کے احباب کو جمع کر کے مجمع عام میں سنانے کا انتظام کیا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ میں نے لندن دیکھا ہی نہیں کہ ہے کدھر اور ہے کیسا کیونکہ میں اپنی ڈیوٹی سے وقت بچا کر ڈائری لکھنے اور پہنچانے ہی میں سارا سرور اور ساری لذت محسوس کیا کرتا تھا۔کیونکہ یہ حس خدا تعالیٰ نے خاص طور سے ودیعت فرما رکھی ہے کہ اپنے محبوب آقا کی جدائی کا صدمہ میرے لئے نا قابل برا دشت ہوا کرتا ہے سو اسی حس کی وجہ سے میں اپنے بھائیوں کی تڑپ اور پیاس کا اندازہ کر کے یہ خدمت بجالایا کرتا تھا۔سوحضور کی معیت میں اگر کہیں جانے کا موقعہ مل گیا تو گیا مگر چلتے ہوئے بھی عمارتوں، بازاروں اور بلند و بالا ایوانوں کی بجائے میری نظر اور میرا دھیان کاغذ اور اس کی تحریر ہی پر ہوا کرتا تھا۔افسوس ہے کہ بعض ڈائریاں تقسیم ملک کی نذر ہو گئیں۔( تحریر ۳ نومبر ۱۹۴۶ء) ان ڈائریوں کی مقبولیت کے بارے میں خاکسار اپنی مؤلفہ کتاب ”سفر یورپ طبع اول مطبوعه دسمبر ۱۹۵۶ء ( صفحہ ۴ تا ۵ ) سے بعض بزرگوں کے خطوط کے چندا قتباسات پیش کرتا ہے: ۱- منجانب حضرت مولوی شیر علی صاحب ( جو سارے ہندوستان کے اس وقت امیر تھے ): ”آپ کی ڈائریاں اور خط پہنچے۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی جزائے خیر دے۔لوگ بڑے شوق سے