اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 343 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 343

۳۴۳ تلاوت قرآن مجید کے بعد حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کی نظمیں جو الفضل خیر مقدم نمبر میں شائع ہوئی تھیں علی الترتیب ملک عبد العزیز صاحب طالبعلم مدرسه احمدیہ اور سید عبدالغفور صاحب ابن محترم میر مہدی حسن صاحب نے خوش الحانی سے پڑھیں۔پھر حضرت مولوی شیر علی صاحب نے سپاسنامہ پڑھا۔اور حضور نے حالات سفر کے بارے مفصل تقریر فرمائی۔۱۹ بزرگان وصدر انجمن احمد یہ وادارہ جات کی طرف سے سپاسنامے اساتذہ وطلبائے مدرسہ احمدیہ و تعلیم الاسلام ہائی سکول۔دونوں مدارس کے اولڈ بوائز۔صیغہ جات صدرانجمن احمدیہ و نظارت دکانداران قادیان اہالیان محلہ دارالفضل۔پریس قادیان۔طلبائے سماٹرا۔حضرت نواب محمد علی خاں صاحب۔واقفین زندگی۔ساکنان محلہ دارالرحمت۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب۔احمد یہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن لاہور اور احمدی افغانان کا بل مقیم قادیان کی طرف سے حضور کو مع رفقاء مدعو کر کے سپاسنامے پیش کیے گئے۔اور حضور نے ہر موقعہ پر جوا با سفر یورپ کے ایمان افزا حالات بیان فرمائے۔اور جماعت کو ان کے فرائض سے آگاہ کیا۔اولڈ بوائز تعلیم الاسلام سکول کی طرف سے حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کی کوٹھی دارالسلام کے باغ میں گارڈن پارٹی دی گئی۔انگریزی زبان کے ایڈریس کے جواب میں حضور نے ایک گھنٹہ تک روانی سے انگریزی میں جواب دیا۔مزید تقریر نماز مغرب کے قرب کی وجہ سے جاری نہ رکھی گئی۔-۲۰ بھائی جی کے مکان پر نو مسلموں کی طرف سے سپاسنامہ ۲۷ نومبر ۱۹۲۴ء کو قادیان کے نومسلم طبقہ کی طرف سے حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کے مکان پر دعوت چائے دی گئی۔تلاوت ونظم کے بعد مہاشہ محمد عمر صاحب نے ہندی میں ایڈریس پڑھا۔جس ملک عبدالعزیز صاحب ( ابن حضرت ملک غلام حسین صاحب باورچی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) نے مدرسہ احمدیہ میں تعلیم پائی اور مولوی فاضل کیا۔پھر طویل عرصہ نیروبی ( کینیا کالونی۔مشرقی افریقہ ) میں بسلسلہ ملازمت مقیم رہے۔ان علاقوں کی آزادی کے بعد دیگر ہندوستانی لوگوں کی طرح انگلستان منتقل وگئے۔جہاں آپ نے دینی تعلیم کا کام ممتاز طور پر کیا۔چند سال پہلے آپ نے وفات پائی۔آپ کی جنوری ۱۹۴۰ء کی چٹھی میں درج ہے کہ ایک عزیز کی تعلیم کے لئے گیارہ سو روپیہ قرض لیا گیا تھا۔ہو