اصحاب احمد (جلد 9) — Page 341
۳۴۱ ایسا نو ر اور پاکیزگی کا رعب ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ انسان نہیں ہے۔اور معاد یکھتے ہی میرے دل میں گذرا کہ وہ فرشتہ ہے۔تب میں اس کے نزدیک گیا۔اور اس کے ہاتھ میں ایک پاکیزہ نان تھا جو پاکیزگی اور صفائی میں کبھی میں نے دنیا میں نہیں دیکھا اور وہ نان تازہ بتازہ تھا اور چمک رہا تھا۔فرشتہ نے وہ نان مجھ کو دیا اور کہا یہ تیرے لئے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لئے ہے۔ایک نہایت خوبصورت اور چمکتا ہوا نان طشت میں رکھ کر حضرت نواب محمد عبد اللہ خاں صاحب کے صاحبزادہ میاں عباس احمد کی طرف سے جو کمر تک اونچے چبوترے پر بٹھائے گئے حضرت میر محمد الحق صاحب نے با چشم پر نم یہ کہتے ہوئے پیش کیا کہ۔دو ” یہ تیرے لئے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لئے ہے“ اس خوبصورت لڑکے کی طرف سے۔اس وقت اور بہت سوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو بھر آئے۔حضور نے وہ نان اٹھا لیا اور اپنے رفقاء میں جو پاس تھے تقسیم کر کے باقیوں کے لئے رکھ لیا۔جلوس پھر بلند آواز سے دعا پڑھتا ہوا آگے بڑھا۔مدرسہ احمدیہ کے دروازوں اور احمد یہ بازار کی دکانوں میں سجاوٹ تھی۔قطعات آویزاں تھے۔احمد یہ چوک تک حضور خود بلند آواز سے الفاظ کہتے اور سارا ہجوم انہیں دہراتا۔احمد یہ چوک میں کھڑے ہو کر سارے مجمع کے ساتھ دعا پڑھی۔اس وقت کا نظارہ نہایت ہی رقت آمیز اور موثر تھا۔حضور کی آواز میں رقت اور آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے۔احباب پھوٹ پھوٹ کر رور ہے تھے اور بعض کی چھینیں نکل رہی تھی۔اس رفت خیز حالت میں حضور نے ڈبڈبائی آنکھوں اور دردناک لہجہ میں چند الفاظ فرمائے کہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ دعا کیسی لطیف ہے۔جس کا نظارہ آج ہم دیکھ رہے ہیں۔یہی جگہ۔یہی مقام اور یہی گھر ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب دعوی کیا تو آپ اکیلے اور تن تنہا تھے۔کوئی ساتھی اور کوئی مددگار نہ تھا۔اس وقت چاروں طرف سے آوازیں آئیں کہ نعوذ باللہ یہ فریبی ہے۔یہ جھوٹا ہے۔دغا باز ہے۔اور دشمن کہتے کہ ہم اسے کیڑے کی طرح مسل دیں گے۔لیکن خدا تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق آپ کی تائید اور نصرت کی۔اور آج اسی کمند کے جکڑے ہوئے ہم اس قدر لوگ یہاں جمع ہیں۔آپ ہی کے طفیل ہمیں خدا تعالیٰ نے ہر میدان میں فتح دی۔اسی کے ذریعہ اور اسی کے وعدوں کے مطابق خدا تعالیٰ نے ہمیں وہ عزتیں دیں۔جو درحقیقت اسی کے لئے آئیں اور خدا تعالیٰ نے ہمیں ان انعامات کا وارث بنایا جن کا وعدہ آپ سے کیا گیا۔اور اگر حقیقت اور سچائی کو