اصحاب احمد (جلد 9) — Page 340
۳۴۰ دعوت عدن پہنچی۔وہاں بھی جانا پڑا۔باغ ( متصل بہشتی مقبرہ) میں پہنچ کر حضور نے ہارا تار دیئے اور مقبرہ بہشتی کے کوئیں سے آپ نے مٹی کے لوٹے سے پانی پیا اور وضو کیا۔پہلے مزار حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر آپ نے اکیلے دعا کی۔پھر اپنے رفقاء کو بلا کر سب نے مل کر دعا کی۔پھر حضور نے حضرت میر ناصر نواب صاحب کی قبر پر کھڑے ہوکر نماز جنازہ پڑھی۔پھر حضرت چوہدری فتح محمد خاں صاحب کے گھر سے چائے آئی اور حضور نے ان کے مکان کے دروازہ پر کھڑے کھڑے نوش فرمائی۔پھر حضور مجمع میں پہنچے اور قصبہ میں داخل ہوتے وقت آپ کے ارشاد پر حضرت حافظ روشن علی صاحب نے شہر میں داخل ہونے کی دعا پڑھی اور سب احباب اسے بلند آواز سے پڑھتے رہے۔مہمان خانہ کے قریب مہتم لنگر خانہ حضرت میر محمد اسحق صاحب نے لنگر خانہ حضرت مسیح موعود کی طرف سے خیر مقدم کیا۔جو نظارہ انہوں نے پیش کیا اس سے میر صاحب بھی خوشی کے آنسو روئے اور دوسروں کو بھی رلایا۔ایک دروازہ بنایا گیا جس کے دونوں ستون برتنوں کے تھے۔اور ہار مرچوں وغیرہ کے۔دروازہ پر مٹی کے آبخوروں سے انگریزی میں ویلکم (Welcome ) اور نیچے جلی قلم سے کپڑے پر لکھ کر آویزاں تھا حضور اور حضور کے رفقاء کی اس وقت کی دعوت خاکسار کے ہاں ہے۔خاکسار لنگر خانہ حضرت مسیح موعود حضور اس دروازہ کے پاس کھڑے ہو گئے اور اس وقت دعائیہ کلمات ( یعنی واپسی کی دعا) آئبون تائبون عابدون لربنا حامدون_صدق الله وعده ونصر عبده و هزم الاحزاب وحده نہایت بلند آواز سے کہے جانے لگے۔اور آواز میں رفت پیدا ہوگئی۔تھوڑی دور آگے لنگر خانہ کی طرف ایک اور دروازہ تھا جس پر لکھا ہوا تھا۔یہ نان تمہارے لئے اور تمہارے ساتھ کے درویشوں کے لئے ہے۔اس موقعہ پر حضرت مسیح موعود کے اس کشف کے ظاہری نظارہ کو دیکھنے والوں کے آنسو رواں ہو گئے۔تریاق القلوب میں مرقوم ہے کہ عرصہ قریبأستائیس برس کا گذرا ہے کہ میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک وسیع جگہ میں ہوں۔اور وہاں ایک چبوترہ ہے کہ جو متوسط قد کے انسان کی کمر تک اونچا ہے۔اور چبوترہ پر ایک لڑکا بیٹھا ملا جس کی عمر چار پانچ برس کی ہوگی اور وہ لڑکا نہایت خوبصورت ہے۔اور چہرہ اس کا چمکتا ہے۔اور اس کے چہرہ پر ایک