اصحاب احمد (جلد 9) — Page 335
۳۳۵ حضرت اس وقت ایک ربودگی کے عالم میں کھڑے تھے اور وہ محسوس کرتے تھے کہ وہ دعا میں مصروف ہیں۔غرض یہ مختصر سا سفر خاص کیفیت اپنے اندر رکھتا تھا۔شام کو سات بجے کے قریب حضور واپس آئے۔اور قریباً بارہ بجے تک باہر سے آئے ہوئے احباب سے مصروف کلام رہے۔حضور کا مسجد فضل میں اولین جمعہ پڑھانا حضور نے مسجد فضل میں ۲۴/اکتوبر کو پہلا جمعہ پڑھایا۔ابھی محراب کی چھوٹی سی دیواریں ہی کھڑی الفضل جلد ۱۲ نمبر ۵۷ بابت ۲۰ / نومبر ۱۹۲۴ء (صفحه ۵) والحکم بابت ۲۱ نومبر ( صفحہ ۷،۵ ) الحکم میں بہت اختصار ہے اور بعض خلا بھی ہیں مثلاً اس مصرع وو وہ سچے وعدوں والا، ہمنکر کہاں کدھر ہیں“ اور احمد یہ مرکزی لائبریری قادیان کی ایک جلد میں جس کا لائبریری نمبر ۲۰۹۹۶ ہے یہ مصرع حضرت بھائی جی نے اپنی قلم سے تحریر کیا ہوا ہے۔الحکم میں شائع شدہ بیان سُن کر بھائی جی نے فرمایا تھا کہ یہ سنگریزے ملی ہوئی ریت تھی۔(اضافه بوقت طبع دوم ) بابت ولیم دی کا نکرر : شاہ ولیم اول ( ۱۰۲۸ ء - ۱۰۸۷ء) کے والد رابرٹ اول ڈیوک آف نارمنڈی (فرانس) نے اپنی ایک قسم کو پورا کرنے کے لئے زیارت ارض مقدسہ کے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے اپنے ماتحت روساء سے حلف لیا کہ اگر اس کی وفات ہو جائے تو وہ اس کے سات سالہ) بیٹے ولیم کے وفادار ہیں۔ولیم نہایت زیرک اور جفا کش نوجوان تھا۔اس نے اپنے آپ کو اس وقت کے فرانس کا طاقتور فیوڈل لارڈ بنا لیا۔اٹھائیس سال کی عمر میں اس نے صوبہ MAINE کو فتح کر کے اپنی ریاست کو خوب وسیع کر لیا۔شاہ ایڈورڈ (THE CONFESSOR) نے ولیم سے تخت انگلستان کا وعدہ کیا جو پورا نہ کیا۔ولیم نے بعمر قریباً اٹھتیس سال انگلستان بلکہ زیادہ تر دنیا کی تقدیر بدلنے کا فیصلہ کر ڈالا۔اور اکتوبر ۱۰۶۶ء میں ہینگر کی جنگ میں انگلستان کو شکست دی اور تین سال کے اندر انگلستان میں اپنی حکومت کو مستحکم کر لیا۔اور وہاں امن و امان قائم کر دیا۔اور اس کی اندرونی اور بیرونی پالیسیوں نے انگلستان کی دنیوی اور مذہبی زندگی کو بدل ڈالا۔۱۹۴