اصحاب احمد (جلد 9) — Page 329
۳۲۹ ۴۔تبلیغ کے بارے میں حضور نے ایک مجلس مشاورت منعقد فرمائی۔- ۱۸۴ -۵ سپر چولر ازم سوسائٹی کے ایک جلسہ میں حضور نے شرکت کی۔ایک عورت نے بیان کرنا شروع کیا کہ روحیں آرہی ہیں اور بعض روحوں کی کیفیت وہ بیان کرتی تھی۔حضرت عرفانی صاحب نے بتایا کہ یہ لغویات ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو اور وہ اس سے کلام کرے اور حضور کے متعلق بتایا کہ اللہ تعالیٰ ان سے کلام کرتا ہے۔اس پر حضور کو گھیر لیا گیا۔-۶- محترم مولانا عبد الرحیم صاحب نیر کی طرف سے ایک ایٹ ہوم کا اہتمام کر کے انگریز مردوزن۔ہندوستانی طلباء اور سفارت ترکیہ کے ارکان اور مسلمان معززین کو بلایا گیا ان کو حضور کا پیغام محبت محترم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے سنایا۔۱۸۵ ے۔ایسٹ اینڈ ویسٹ یونین کے مدعو کر نے پر ان کے ایک اجلاس میں خود حضور نے اپنا انگریزی کا لیکچر پڑھا۔جس میں بتایا۔اس یونین کا مقصد مشرق و مغرب میں اتحاد پیدا کرتا ہے۔مجھے اس مقصد سے اتفاق ہے۔ہمارے بانی امام اسی مقصد سے مبعوث ہوئے تھے۔اور میں آپ کی یونین کی کامیابی کے لئے دعا کرتا ہوں۔اس مقصد کے حصول کا ذریعہ یہ ہے کہ ہم مرکزی ہستی کی طرف بڑھیں جو تمام عالم خلق کا مرکز ہے۔جتنا ہم خدا تعالیٰ کے قریب ہوں گے اور اس کی محبت کو ترجیح دیں گے اتنا ہمارا باہمی بعد دور ہوگا۔یہ ہستی تمام جہتوں سے پاک ہے۔اور اس سے تعلق رکھنے والے بھی مشرق و مغرب کی قید سے آزاد ہوتے ہیں۔جو قومیں مذہب ، تمدن اور علم میں ترقی یافتہ ہیں ان کو دوسروں کی ترقی دینے کی کوشش کرنی چاہئے۔مختلف زمانوں میں مختلف قوموں نے ترقی کی۔ہر قوم دوسری قوم کی شاگرد ہے۔آؤ ہم اپنے آپ کو مشرق و مغرب سے بالا کریں ورنہ یہ سوال دنیا کے امن کو برباد کر رہا ہے۔- (لیگ آف نیشیز کے شعبہ مذہب و اخلاق کے سیکرٹری اور ایک اور صاحب نے حضور سے ملاقات کر کے پوچھا کہ حضور اس کام میں کس طرح مدد دے سکتے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ سلسلہ احمدیہ کی اشاعت سے قیام امن میں بہت مدد ملی ہے۔مثلاً یہ کہ مذہب کی اشاعت کے لئے تلوار اور جہاد منع ہے۔اور اقوام عالم کے ذریعہ قرآن مجید کے بیان کردہ اصول بتائے کہ ان کے ذریعہ ہی دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے۔( جس کی تفصیل حضور نے بیان کی۔) - " مسیح کی آمد ثانی اور پیغام آسمانی کے بارے پورٹ سمتھ میں ہندوستانی طلباء سے حضور ۱۸۸