اصحاب احمد (جلد 9) — Page 307
۳۰۷ سفر لا ہور و مالیر کوٹلہ (۱۹۲۴ء میں ) ۱- سخت اور متواتر محنت اور مصروفیت کی وجہ سے ۱۹۲۳ء سے حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی صحت متاثر تھی اور گذشتہ سال سلسلہ کے کاموں کی اہمیت کی وجہ سے طبی مشورہ کے باوجود آپ بھائی صحت کی خاطر نہ جاسکے تھے۔چنانچہ ڈاکٹری مشورہ سے آپ ۱۲ رفروری ۱۹۲۴ء کو بیرون قادیان روانہ ہوئے۔11 فروری کو بعد مغرب آپ نے حضرت مولوی شیر علی صاحب کو امیر مقرر کرنے کا اعلان فرمایا۔مولوی رحیم بخش صاحب افسر ڈاک۔ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب۔بھائی شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی۔میاں نیک محمد خاں صاحب۔عبدالاحد خاں صاحب افغان۔چودھری علی محمد صاحب اور بیٹی خاں صاحب خدام سفر تھے۔۲- رپورٹ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب: ☆ ۱- قادیان تا بٹالہ سفر تانگہ پر ہوا۔چونکہ حضور نے جماعتوں کو سفر کی خبر دینے سے روک دیا تھا اس لئے خیال تھا کہ احباب امرتسر اسٹیشن پر نہیں آئیں گے۔گاڑی رکی۔فرمایا۔ڈاکٹر صاحب! آج تو ہم آزاد ہیں چلو ہلیں۔جونہی یہ جملہ ختم ہوا چودھری ظفر اللہ خاں صاحب نے ٹرین میں داخل ہو کر السلام علیکم کہا۔اس کے بعد مصافحوں کا سلسلہ شروع ہوا۔حضور نے حیران ہوکر فرمایا کہ میں ابھی ڈاکٹر صاحب سے کہہ رہا تھا کہ آج تو ہم آزاد ہیں۔لاہور میں آپ لوگوں کو کس طرح علم ہو گیا۔چودھری صاحب نے کہا کہ نیک محمد خاں صاحب سے پتہ لگا۔شیخ عبدالحمید صاحب نے کہا کہ میں حضرت صاحب کو آج ہی خط لکھتا ہوں۔کل مل جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کبھی نہ ملے گا جب تک مجھے نہ دیا جائے کیونکہ میں حضرت صاحب کے ہمراہ جارہا ہوں۔پوچھنے پر ان کو بتانا پڑا۔اور ساتھ ہی کہنے لگے کہ کسی کو نہ بتایا جائے۔میں نے کہا کہ حضرت صاحب کا یہ حکم آپ کے لئے رض ا حضرت مولوی رحیم بخش صاحب بعده مولوی عبد الرحیم صاحب درد تقسیم ملک تک پرائیویٹ سیکرٹری کو افسر ڈاک بھی کہا جاتا تھا۔جلسہ سالانہ پر افسر ڈاک“ کا بیج پرائیویٹ سیکرٹری کے بازو پر لگایا جاتا تھا۔-۳- اختصار روانگی کا ذکر الفضل مورخہ ۱۵ فروری میں بھی ہے۔وہاں ”عبدالاحد خاں صاحب“ کا نام سہواً " عبد الواحد " درج ہوا ہے۔