اصحاب احمد (جلد 9) — Page 306
۳۰۶ ہو سکے حضور تشریف لے آئیں شام ہو گئی تھی۔اور راستہ بہت خطرناک تھا اس لئے مجبورا۔۔۔۔۔دوسرے روز بعد از نماز صبح حضور مع جناب ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب گھوڑوں پر سوار ہوکر آسنور۔۔۔بارہ بجے پہنچ گئے۔( حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ کا بخار اتر گیا تھا۔) ۱۴۴ حضرت مولوی عبد اللہ صاحب سنوری نے تار دیا کہ میاں عبد القدیر صاحب کا ولیمہ منائیں بچیں روپے ارسال ہیں۔چنانچہ دعوت ولیمہ میں آسنور اور رشی نگر کے بعض احباب شامل ہوئے۔ولیمہ بمقام اہر بل کیا گیا جہاں حضور فال (Fall) ( یعنی آبشار ) دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے تھے۔- ۷ ستمبر کو ساڑھے گیارہ بجے سرینگر کو روانگی کے وقت قریباً تمام گاؤں حضور کو وداع کرنے کے لئے دور تک ساتھ آیا۔یاڑی پور کے احباب نے بار بار التجا کی کہ حضور ان کے گاؤں سے ہوتے ہوئے دریا کے راستہ سرینگر تشریف لے جائیں۔سو حضور یاڑی پورہ کی طرف روانہ ہوئے۔وہاں کے احمدی احباب دور تک استقبال کے لئے آئے ہوئے تھے۔گاؤں کی حد کے پاس جا کر حضور نے سب کے ساتھ مل کر دیر تک دعا کی۔دوسرے روز با وجود علالت کے جماعت کی درخواست پر پونے دو گھنٹے تقریر فرمائی کہ اسلام واحمدیت کی صداقت کی کیا دلیل ہے۔حضور نے پہلے سوائے تین افراد کے باقی قافلہ کو بھجوا دیا تھا۔گھوڑوں پر حضور اور ساتھی اروا ئیں (آرونی) تک جا کر کشتیوں پر سوار ہو گئے۔وہاں تک آنے والے آسنور کے احباب کے لئے حضور نے دعا کی اور رخصت ہونے والے احباب فرط محبت سے بے اختیار رونے لگے۔چھ بجے شام روانہ ہوکر دوسرے روز اسی وقت سری نگر پہنچے۔۹ - بوقت صبح ۲۹ ستمبر کو حضور قادیان میں تشریف لے آئے۔حسب معمول احباب قادیان نے موڑ پر استقبال کیا۔حضور کے علیل ہونے کی وجہ سے منتظمین نے احباب کو ایک صف میں کھڑا کر دیا تھا۔حضور وہاں پہنچ کر ایک درخت کے نیچے کھڑے ہو گئے اور احباب مصافحہ کرتے گئے۔حضور پیدل چند قدم چلے پھر احباب کے عرض کرنے پر سوار ہو گئے۔خاکروبوں کے مکانات کے پاس آکر پیدل ہو گئے۔کیونکہ (حضور کے ایک استاد۔مؤلف مولانا قاضی امیرحسین صاحب استقبال کیلئے وہاں کھڑے تھے۔الدار میں داخل ہونے سے قبل مسجد مبارک میں نفل پڑھے۔