اصحاب احمد (جلد 9) — Page 299
۲۹۹ مقام پر تشریف لے جاتے ہوئے بیت الدعاء ( دارا مسیح ) میں دعا کی۔احباب باہر کھڑے دعا میں شامل ہوئے۔ایک دن پہلے خطبہ جمعہ میں حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کو امیر صلوۃ اور حضرت مولوی شیر علی صاحب کو امیر انتظامیہ مقرر کرتے ہوئے آپ نے احباب کو اطاعت کی تلقین فرمائی۔قافلہ میں ) جناب صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب، جناب سید زین العابدین شاہ صاحب۔جناب ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب۔جناب مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل۔مرزا گل محمد صاحب۔خلیفہ تقی الدین صاحب شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی۔میاں نیک محمد پٹھان۔مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے ناظر صیغہ اشاعت۔چودھری علی محمد صاحب ( شامل تھے )۔۲- سفر قادیان تا دھر مسالہ۔اس وقت ابھی بعد کی سہولتیں میسر نہیں ہوئی تھی۔قادیان سے بٹالہ تک کا سفر ٹانگے یا ٹمٹم پر ہوتا تھا۔قافلہ رات گیارہ بجے بٹالہ پہنچا۔تین گھنٹہ بعد قافلہ ٹرین میں سوار ہوا۔گذشتہ رات سے بارش شروع تھی جو پٹھان کوٹ تک جاری رہی۔پٹھان کوٹ میں ذیل گھر میں قیام ہوا۔ہڑتال کے باعث کھانے وغیرہ کے انتظام میں سخت دقت ہوئی۔صبح کو تو کچھ مل گیا۔رات کو کچھ نہ مل سکا اور صبح کی بچی ہوئی روٹی پر گزارہ کیا گیا۔۲ اگست کو دھر مسالہ کے راستہ میں بمقام نور پور دو پہر کا کھانا کھایا گیا۔اور رات کا کھانا رات کے گیارہ بجے بمقام شاہ پور کھایا گیا۔۳ را گست کو بعد دو پہر ایک بجے قافلہ دھر مسالہ پہنچا۔بذریعہ تار وہاں اطلاع دی جا چکی تھی۔جماعت نے بہت کوشش سے قیام کا انتظام کیا تھا۔چودھری محمد دین صاحب سیالکوٹی ٹیلر ماسٹر نے چھاؤنی سے اپنے بیٹے محمد امین صاحب کو سات میل آگے بھیج دیا تھا تا قیامگاہ تک پہنچنے میں دقت نہ ہو۔حضور پہاڑوں میں داخل ہوئے تو ایک اونچے ٹیلے پر شدید بارش میں علیحدگی میں ہاتھ اٹھا کر آپ چوہدری محمد دین صاحب قوم پال نے بعد میں رانچی (بہار ) میں ٹیلرنگ شاپ کھول لی تھی۔جو جنگ عظیم دوم میں بہت چمکی۔بعد تقسیم ملک ان کے بعض عزیز اسے چلا رہے ہیں۔خود وہ سیالکوٹ واپس آگئے تھے اور وفات پاچکے ہیں۔حضور نے ۲۶ اگست ۱۹۲۰ء کو عید قربان کا خطبہ ڈلہوزی میں کوٹھی راج محل میں دیا۔تین صفحات کا خطبہ اور ۴ ار ستمبر کی ڈائری بھائی جی کے سرینگر میں ٹھہرنے کا ذکر ہے۔(الحکم بابت ۲ جولائی صفحہ ۲) یہ سفر مبارک اور اس کے حالات بہت ایمان افروز تھے۔