اصحاب احمد (جلد 9) — Page 281
۲۸۱ ۵- دہلی میں ایک عظیم الشان جلسہ دہلی میں مارچ ۱۹۱۶ ء میں جماعت احمدیہ کا چار روزہ جلسہ منعقد ہوا۔اس اپنی طرز کے پہلے عظیم الشان جلسہ میں بزرگان ، حافظ روشن علی صاحب ، میر محمد اسحاق صاحب، مفتی محمد صادق صاحب، چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب، میر قاسم علی صاحب، چوہدری ابوالہاشم خاں صاحب ، مولوی محمد دین صاحب، ( بی۔اے ) اور شیخ عبدالخالق صاحب کے لیکچر ہوئے۔اس جلسہ کی جان حضرت خلیفہ امسیح الثانی کا اسلام اور دیگر مذاہب پر مضمون تھا۔جو شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے سنایا۔جو بعد میں اردو، انگریزی اور عربی میں شائع کیا گیا۔حضور نے اس مضمون کا ایک حصہ ظہر تک تحریر کر کے امیر قافلہ مولوی محمد دین صاحب کے سپرد کیا۔پھر نماز جمعہ کے بعد چند اوراق شیخ عبدالخالق صاحب کے ہاتھ بھجوائے۔اور دو گھنٹے بعد ایک حصہ ماسٹر عبدالعزیز صاحب نے سائیکل پر بٹالہ پہنچ کر اسٹیشن پر شیخ صاحب کے سپر د کیا اور بقیہ مضمون تین بجے رات کو بھائی عبدالرحمن صاحب لے کر د بلی روانہ ہوئے۔زیر تجویز مباہلہ۔جلسہ سالانہ ۱۹۱۷ ء میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ دہلی میں فلاں بااثر صاحب کو میں نے اپنے مضمون میں ایک ہزار افراد لے کر مباہلہ کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔'' (سوجوا حباب مباہلہ میں پیش ہونا چاہیں) وہ اپنا نام بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کو لکھا دیں۔“ حمد الفضل ۱۷ -۱۹۱۶ء ( صفحہ ۱۲، مارچ صفحہ ۲ ،۱۳ ) اس سفر میں دہلی میں گھنٹہ گھر کے سامنے مفتی صاحب کا ایک پادری سے مباحثہ ہوا کہ اس کے حامی مسلمانوں کا بڑا مجمع تھا۔مفتی صاحب کے ساتھ صرف بھائی عبدالرحمن صاحب تھے۔(صفحہ ا کالم ۳) ماسٹر عبدالعزیز صاحب سے مراد حضرت ماسٹر حکیم عبدالعزیز صاحب صحابی ہیں جنہوں نے تقسیم ملک سے چند سال پہلے محلہ دار الفضل میں احمد یہ فروٹ فارم کے قریب جانب غرب اپنے مکان میں طبیہ عجائب گھر کھولا تھا۔آپ تعلیم الاسلام ہائی سکول میں ٹیچر اور ایک زمانہ میں سلسلہ کی طرف سے اردگرد کے سلسلہ کے مدارس کے انسپکٹر بھی رہے تھے۔بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہیں۔شیخ عبد الخالق صاحب قبول احمدیت سے پہلے پادری تھے۔پھر ساری عمر خدمت دین میں انہوں نے صرف کی۔