اصحاب احمد (جلد 9) — Page 278
۲۷۸ (مندرجہ بدر جلد نمبر ۲۴ بابت ۲۸ / اگست ۱۹۵۲ء) میں حضرت بھائی جی نے تحریر فرمایا ہے کہ اس عظیم الشان خلافت کے اس وقت تک کے چالیس سالہ دور میں مخالفتوں کے خطرناک طوفان اٹھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے جس نے آپ کو تخت خلافت پر متمکن کیا تھا ، ملیا میٹ کر دیا حضور نے بیان فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ کے ذریعہ ایک رویا میں مجھے اطلاع دی تھی کہ میرے کام کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں حائل ہوں گی۔مخالفتیں پیدا ہوں گی۔میں خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ کہتا آگے بڑھتا چلا جاؤں۔چنانچہ رویا میں مجھے عجیب عجیب ڈراؤنی شکلیں اور بھیا نک نظارے نظر آتے ہیں۔جب میں ” خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ پڑھتا ہوں تو وہ نظارے غائب ہو جاتے ہیں۔۱۰- پیشگوئی مصلح موعود کے بارے انکشاف حضرت خلیفتہ المسیح الثانی پر جنوری ۱۹۴۴ء کے پہلے ہفتہ میں لاہور میں شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کے مکان پر یہ انکشاف ہوا کہ آپ ہی مصلح موعود کے بارے پیشگوئی کے مصداق ہیں۔اس انکشاف سے احمدی جماعتوں میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی اور حاسدین کو بہت تکلیف ہوئی کہ جماعت مبارکباد کے تار دے رہی ہے اور خوشی منا رہی ہے۔اس تعلق میں ہوشیار پور لا ہور لدھیانہ اور دہلی میں عظیم الشان جلسے منعقد کئے گئے جن میں حضور نے بنفس نفیس شرکت فرمائی۔ہوشیار پور کے جلسہ میں حضور نے فرمایا کہ ” میں آج اسی واحد اور قہار خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے قبضہ تصرف میں میری جان ہے کہ میں نے جو ر و یا بیان کی ہے وہ مجھے اسی طرح آئی ہے۔۔۔میں خدا کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ میں نے کشفی حالت میں کہا انا المسیح الموعود مثيله و خليفة اور میں نے اس کشف میں خدا کے حکم سے یہ کہا کہ میں وہ ہوں جس کے ظہور کی انیس سو سال سے کنواریاں منتظر بیٹھی تھیں۔پس میں خدا کے حکم کے ماتحت قسم کھا کر یہ اعلان کرتا ہوں کہ خدا نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق آپ کا وہ موعود بیٹا قرار دیا ہے جس نے زمین کے کناروں تک حضرت مسیح بقیہ حاشیہ : - احباب دعا کریں۔اللہ تعالیٰ موسم کے بداثرات سے محفوظ رکھے اور باران رحمت -۲ بابت ۷ ارجنوری ” ایک عرصہ کے بعد آج مطلع ابر آلود ہونے کے بعد کسی قدر ترشح ہوا۔الحمد للہ۔ابھی بادل چھائے ہوئے ہیں۔“۔