اصحاب احمد (جلد 9) — Page 274
۲۷۴ دعائیں کیں۔پھر حضرت صاحبزادہ صاحب نے حالات سفر میں تبلیغی حالات بیان کئے۔مشایعت کے سفر میں بھائی جی کی ہمراہی سے حضرت صاحبزادہ صاحب کو کافی سہولت میسر آئی ( بحوالہ مکتوبات اصحاب احمد جلد ا صفحه ۳۲ ۳۳) - حضرت صاحبزادہ صاحب کی مراجعت پر پیشوائی کے لئے بھی بھائی جی نے حضرت خلیفہ اول سے اجازت حاصل کر لی تھی۔یہ بات پیش کر کے کہ میں وہاں سے ستا تجارتی مال خرید لوں گا۔جس سے میرا کرایہ نکل آئے گا۔۵ تائید خلافت -1 خلافت اولیٰ کے ایام میں ایک طبقہ نے متواتر کوشش کی کہ آئندہ خلافت کا قیام نہ ہو۔خلافت اولیٰ کے دوران ہی ان صاحبان نے انجمن اشاعت اسلام قائم کر کے لاہور میں کام شروع کر دیا اور ”پیغام صلح کے نام سے وہاں سے اخبار بھی جاری کیا۔حضرت خلیفہ اول نے ان کے منصوبوں کے خلاف بھر پور کام کیا تا خلافت کا نظام متحکم ہو۔حضور کے وصال سے پہلے مخفی ٹریکٹ بھی اس طبقہ کی طرف سے شائع کئے گئے اور وصال کے قریب ٹریکٹ جماعتوں کو بھجوا کر انتخاب خلافت سے روکا گیا۔حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی خلافت کے مؤیدین میں سے تھے۔اور عجیب فدائیت کا رنگ رکھتے تھے۔انجمن انصار اللہ نے اس فتنہ کا مقابلہ کیا تھا۔مثلاً جوابا اظہار حقیقت مورخہ ۲۸ رنومبر ۱۹۱۳ء اس انجمن کے شائع کردہ ٹریکٹ پر چالیس ممبران میں نمبر ۲۹ پر آپ کا نام ” عبدالرحمن قادیانی۔قادیان مرقوم ہے۔قیام خلافت ثانیہ پر مسجد نور میں اولیں بیعت ہوئی۔اس موقعہ پر حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی بھی اول المومنین میں سے تھے۔ہمیشہ آپ کو استحکام خلافت ثانیہ کے لئے بھر پور گونا گوں خدمات سرانجام دینے کی سعادت حاصل ہوئی۔- کوئی پون صد بزرگان بشمول حضرت نواب محمد علی خاں صاحب۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب۔حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب۔حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اور حضرت مولوی شیر علی صاحب اور حضرت شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی “ کی طرف سے ایک ”اعلان“ اس عنوان سے کیا گیا کہ حضرت خلیفتہ اسح الاول وفات پاگئے ہیں۔دوسرے روز حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ قرار پائے۔قریباً دو ہزار افراد نے بیعت کی۔آپ نے