اصحاب احمد (جلد 9) — Page 268
۲۶۸ نعمتیں حاصل کرنے اور ان کے لئے مناسب کوشش کرنے سے نہیں روکتا۔بلکہ قرآن خود حسنات دارین کی دعا سکھاتا ہے مگر انبیاء اور اولیاء کا مقام فقر کا مقام ہوتا ہے جس میں یہ پاک گروہ صرف خدا کا نوکر بن کر قوت لا یموت پر زندگی گزارنا چاہتا ہے۔اس لئے نبیوں کے سرتاج حضرت افضل الرسل خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم نے دین ودنیا کا بادشاہ ہوتے ہوئے بھی اپنے لئے فقر کی زندگی پسند کی اور ہمیشہ یہی فرمایا کہ الفقر فخری۔یعنی فقر کی زندگی میرے لئے فخر کا موجب ہے ۲۴- حضرت اقدس کی نماز جنازہ اور بیعت خلافت اولی والے مقامات بہشتی مقبرہ کے ملحق بڑے باغ میں جس مقام پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور جہاں حضرت حکیم نورالدین صاحب کی خلافت کی بیعت ہوئی۔ان مقامات سمیت سارے قطعہ کی تعیین ایک دائرہ کی شکل میں حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے بعد تقسیم ملک کی تھی۔آپ روزانہ کئی گھنٹے اکیلے رمبہ کے ساتھ اس قطعہ کا گھاس پھوس صاف کرتے تھے۔اور اس دائرہ کو پختہ اینٹوں سے آپ نے حلقہ بند کر دیا تھا۔صدر انجمن احمدیہ اور ایک ذیلی تنظیم نے حلقہ بندی کے لئے رفتی مدد کی تھی۔آپ نے ایک بورڈ اس بارے میں وہاں آویزاں کیا تھا وہ تو اب باقی نہیں۔اس پر قدرے زیادہ تفصیل تھی لیکن سیمنٹ کی پختہ تحریر بھی آپ نے قائم کی تھی۔وہ موجود ہے جس پر رقم ہے: بروایت حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی مقام ظہور قدرت ثانیہ یعنی وہ مقام (نشان زدہ درختوں کے درمیان ) جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد جماعت احمدیہ نے متفقہ طور پر خلافت اولیٰ کی بیعت کی تھی۔حضرت سیٹھ محمد غوث صاحب حیدر آبادی کی بہشتی مقبرہ میں ۲۹ دسمبر ۱۹۵۰ء کو تدفین ہوئی۔نماز جنازہ سے پہلے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی موسس و مدیر الحکم نے پرنم آنکھوں کے ساتھ احباب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔اس وقت میری آنکھوں کے سامنے ۲۷ مئی ۰۸ ء کا دن ہے جبکہ ٹھیک اسی میدان میں ہمارے آقا اور محسن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جنازہ رکھا گیا تھا اور یہی وہ میدان تھا جس میں ہم نے خلافت اولیٰ کی بیعت کی تھی۔۔سیٹھ محمد غوث گذشتہ بیالیس سال میں وہ پہلے خوش قسمت انسان ہیں جن کا جنازہ آج ٹھیک اس جگہ اور اسی حلقہ میں پڑھا جا رہا ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جسد اطہر رکھا گیا تھا۔اور جنازہ پڑھا