اصحاب احمد (جلد 9) — Page 259
۲۵۹ کے ایمان کی تازگی اور اخلاص کی ترقی کا موجب ہوا۔یہ آخری تبلیغ تھی۔( مراد جلسہ کی صورت میں پبلک تبلیغی تقریر۔) بارہ بجے آپ نے فرمایا۔اگر آپ لوگ چاہیں تو میں اپنی تقریر بند کر دوں۔آپ کھانا کھا لیں۔مگر آپ کی تقریر میں وہ دلربائی اور قوت جذب اور تاثیر خدا نے بھر رکھی تھی کہ لوگوں کو اس روحانی لذت نے جسمانی کھانے سے بھی بے پرواہ کر رکھا تھا۔تمام معزز سامعین نے یک زبان ہو کر کہا کہ نہیں آپ تقریر فرماویں۔ہم وہ کھانا تو روز کھاتے ہی ہیں آج روحانی غذا ہی سہی۔سوحضرت اقدس نے اپنی تقریر ایک بجے کے بعد ختم کی۔آخر پر حضور نے فرمایا کہ یا د رکھو جو مجھ سے مقابلہ کرتا ہے۔وہ مجھ سے نہیں بلکہ اس سے مقابلہ کرتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔۔گورنمنٹ سے (اس کے ادنی چپڑاسی کی ) ہتک کرنے والے یا ( اس کی بات ) نہ ماننے والے کو سز املتی ہے اور باز پرس ہوتی ہے تو پھر خدا کی طرف سے آنے والے کی بے عزتی کرنا ، اس کی بات کی پرواہ نہ کرنا ، ۱۸۴ کیونکر خالی جا سکتا ہے۔ے۔حضرت اقدس کی آخری تقریر۔کلمات طیبات ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو صبح ہوا۔۲۵ رمئی کو عصر سے پہلے حضرت اقدس ”پیغام صلح کے لکھنے میں مصروف تھے۔اس وقت کسی دوست نے ایک غیر احمدی مولوی صاحب کا عقیدہ حضرت عیسی کی سولی کے بارے میں پیش کیا تو حضور نے اس کا مدلل جواب بیان کیا۔حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی اس جواب کو تحریر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ” یہ حضرت اقدس کی زندگی میں آپ کی آخری تقریر ہے۔جو آپ نے بڑے زور اور خاص جوش سے فرمائی۔دوران تقریر میں آپ کا چہرہ اس قدر روشن اور درخشاں ہو گیا تھا کہ نظر اٹھا کر دیکھا بھی نہیں جاتا تھا۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تقریر میں ایک خاص اثر اور جذب تھا۔رعب ، ہیبت اور جلال اپنے کمال عروج پر تھا۔بعض خاص خاص تحریکات اور موقعوں پر حضرت اقدس کی شان دیکھنے میں آئی ہو گی جو آج کے دن تھی۔آخری وحی کے بارے میں حضرت بھائی جی کا نوٹ: -^ آخری وحی ۱۷ مئی ۱۹۰۸ء کی ہے۔۸۵