اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 248 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 248

۲۴۸ نماز کے قریب لا ہور اور گوجرانوالہ کو جانے والی گاڑی میں بیٹھ کر گوجرانوالہ آٹھ بجے پہنچ جاؤں۔اور اس طرح ان کو لے کر گورداسپور حاضر ہو جاؤں۔میرا یہ بیان سن کر حضور بہت خوش ہوئے اور فرمایا۔رات کا وقت ہے اکیلے جانا مناسب نہیں۔میاں فتح محمد آپ میاں عبدالرحمن کے ساتھ چلے جائیں۔امرتسر سے آپ لوٹ آئیں۔میاں عبدالرحمن آگے اکیلے چلے جائیں گے۔ذرا ٹھہرو میں ابھی آتا ہوں حضور مجلس میں سے اٹھ کر نیچے تشریف لے گئے اور جلد ہی واپس تشریف لا کر مٹھی بھر روپے میرے ہاتھ میں دیئے اور فرمایا۔”جاؤ اللہ حافظ ! ہم گورداسپور میں کل آپ کا انتظار کریں گے ہم نے دست مبارک کو بوسہ دیا اور آنکھوں پر رکھ کر رخصت ہوئے۔چوہدری فتح محمد صاحب جو آجکل نظارت علیا پر فائز ہیں اس زمانہ میں طالب علم تھے ( بوقت طبع دوم وفات پاچکے ہیں۔مئولف) مضبوط اور چست و چاق، مخلص جو شیلے اور ایک فدا کارنو جوان تھے۔ہم دونوں فوراً پہلے قادیان کے ایک یکہ بان کے ہاں گئے اور کوشش کی کہ وہ ہمیں زیادہ نہیں تو بٹالہ ہی پہنچا دے مگر اس کی لیت و لعل کو ہم برداشت نہ کر سکے۔کیونکہ ہمارا ایک ایک منٹ قیمتی تھا۔رات اندھیری تھی۔ہم دونوں پیدل بھاگتے دوڑتے قریباً ڈیڑھ گھنٹہ میں بٹالہ پہنچے۔یکہ بانوں کے ساتھ بات چیت کی اور اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کہ ایک یکہ بان جو امرت سر ہی کا تھا اتفاقا مل گیا اس کے ساتھ کرایہ طے کر کے اس کو تیاری کے لئے کہا اور خود عشاء کی نماز میں مصروف ہو گئے۔ہم نماز سے فارغ ہوئے اور وہ اتنے میں تیار ہو گیا۔سوار ہوکر لا ۶۹ سُبْحْنَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هُذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ) پڑھتے ہوئے امرتسر کو روانہ ہوئے رات اندھیری تھی۔اور یہ علاقہ خطرناک۔عموماً چوری ڈاکہ کی ورا دا تیں ہوا کرتیں۔یکہ بان آگے اور ہم دونوں بیٹھ جوڑ کر دائیں بائیں ہوشیار و چوکس چلتے گئے۔راستہ میں دو جگہ خطرہ معلوم ہوا دائیں بائیں سے ظلماتی آدمی اٹھے اور بڑھے۔مگر ہم تینوں خدا کے فضل سے چوکس تھے۔گھوڑا گاڑی خاصی تیز تھی ہم تک کوئی نہ پہنچ سکا۔اور ہم بخیریت وقت پر امرتسر کے اسٹیشن پر پہنچ گئے۔خدا کا شکر کیا۔میں ٹکٹ لے کر اندر چلا گیا۔اور چوہدری صاحب محترم یکہ بان کے ساتھ شہر کو۔تھوڑی دیر میں گاڑی آئی اور میں بیٹھ کر وہی قرآنی دعا پڑھتا ہوا لا ہور اور لاہور سے گوجرانوالہ پہنچا۔گاڑی سے اتر دوڑتا ہوا شہر گیا۔منشی صاحب کا پتہ جس مکان کا تھا وہاں گیا۔مگر جواب ملا کہ وہ تو صبح ہی چلے گئے ہیں۔کہاں گئے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں ایک دوسرے مکان کا پتہ دیا گیا۔مارا مارا