اصحاب احمد (جلد 9) — Page 236
۲۳۶ بے معنی قصہ بے محل راگ اور بے ہنگام بانگ کوئی کہتا چلا جاتا ،حضور سنتے اور سنتے نہ روکتے نہ ٹوکتے بلکہ اس طرح توجہ فرماتے جس سے اس کی دلداری و دلجوئی ہوتی۔کتنی ہی کوئی چھوٹی چیز۔ادنی سی خدمت، معمولی ساہد یہ کوئی پیش کرتا۔مٹھی بھر بیر ایک دو گنے یا چند بھٹے مکی کے حتی کہ حقیر ترین رقوم کو یوں قبول فرماتے ، اتنا نوازتے اور پیش کرنے والے کا اس طرح شکر یہ ادا فرماتے جیسے کسی نے بھاری خزانہ یا نعمتوں کا انبار پیش کر دیا ہو۔کیونکہ حضور کی نظر درہم و دینار اور نذرونیاز سے دور آگے نکل کر اس دل اور اس کی نیت واخلاص اور محبت و پیاس پر پڑا کرتی تھی جس سے وہ چیز پیش کی جاتی۔غلطی پر گرفت وسختی کی بجائے لطف فرماتے۔چشم پوشی کرتے۔اور الٹا دلجوئی فرما کر نوازتے دل بڑھاتے غلطی سے کسی نے قیمتی چیز ضرورت کا سامان گراد یا پھینک دیا یا بگاڑ دیا تو ناراضگی و سرزنش کی بجائے ایسا طریق اختیار فرماتے کہ اس کو ندامت و شرمندگی سے بھی بچا لیتے اور دلجوئی و دلداری بھی فرما دیتے۔میرے سامنے حقائق اور واقعات ہیں۔دل و دماغ میں بکثرت اس کی مثالیں ہیں اور ان سب سے بڑھ کر میری آنکھوں میں وہ صورت اور قلب کے اندر وہ مومنی صورت جلوہ فگن ہے جو نذر ونیاز اور تحفے تحائف لے کر اتنا خوش نہیں ہوتی جتنا خلق خدا کی ضرورت میں دے کر یا اس کی حاجت پوری کر کے یا اس کی خدمت یا مدد کرنے اور سلوک فرمانے سے قیمتی سے قیمتی چیز اپنے خدا کے نام پر خالصتا اللہ ایتاء ذی القربی کے طریق پر دینے میں بھی کبھی حضور کو دریغ نہ ہوتا تھا حتی کہ کستوری اور مشک جیسی قیمتی نایاب اور اشد ضروری ادویہ جن کی موجودگی خود حضرت والا کی اپنی ذات کے لئے لازمی ہوا کرتی ، خندہ پیشانی ، فراخ دلی اور کشادہ دستی سے بلا امتیاز مذہب وملت ، بلالحاظ اپنے اور پرائے ، بغیر حساب دیا کرتے اور دے کر بے انتہا خوشی بشاشت اور مسرت پایا کرتے تھے اور ان چیزوں کا بہترین مصرف انتہائی قیمتی اور حقیقی قدر اسی عمل میں پاتے کہ وہ چیز حضور کے محبوب و مطلوب اور مقصود کی مخلوق کے کام آ گئی۔اس کی حاجت روائی ہو گئی اور اس کی ضرورت پوری ہوگئی۔نہ صرف اسی پر بس تھی بلکہ اکثر ایسا بھی ہوا کرتا کہ حضور کسی غلام اپنے خادم یا مخلص دوست مرید کی خواہش محسوس کر کے اس کی کسی حرکت، عمل یا طرز کلام سے خدا داد فراست اور نور علم سے یا کسی خدائی تحریک سے تصرف کے ماتحت علم پا کر بعض چیزیں بطریق دلداری و دلجوئی خود بخود ان کے پیش فرما دیا کرتے تھے۔مجھے اس بات کا صدمہ اور انتہائی رنج ہے کہ میں ان ساری کیفیات کے اظہار و بیان سے عاجز ہوں،