اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 228 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 228

۲۲۸ نمبر ا بابت ۷ مارچ ۱۹۵۲ء میں بھی درج ہے) ایڈیٹر بد رمحترم مولوی برکات احمد صاحب را جیکی بی اے نے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کے ایک مکتوب سے یہ اقتباس نقل کیا ہے: ” جب مرزا امام دین (صاحب) وغیرہ نے دیوار کھڑی کر دی تھی۔اس وقت مقدمہ سے قبل اتفاقاً ڈپٹی کمشنر گورداسپور اور ڈی۔ایس پی کا دورہ ہر چو وال میں ہوا۔ان کا کیمپ نہر کو پار کر کے کوٹھی میں تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک ڈیپوٹیشن ان کے پاس بھیجا۔اس میں پچاس کے قریب احباب شریک تھے۔حضرت حکیم فضل الدین صاحب عملاً امیر تھے۔اور مجھ کو گفتگو کرنے کا ارشاد تھا۔ان ایام میں حکام سے ملنے کا کام مجھ سے لیا جاتا تھا بوجہ اخبار نویس ہونے کے۔( ہم ) بین الظہر والعصر وہاں گئے۔اس وقت وہ اپنے کیمپ میں تھا۔کوٹھی پر نہ تھا۔دوسرے لوگ بھی جمع تھے۔مگر وہ لوگ اہل معاملہ تھے جن کی تاریخیں تھیں۔ہم سب اکٹھے ادھر کو بڑھے۔میں حکیم فضل الدین، چوہدری حاکم علی صاحب اور بعض اور دوست آگے تھے باقی سب پیچھے تھے۔ڈپٹی کمشنر صاحب کے قریب پہنچ کر ابھی میں نے یہ کہا تھا کہ ہم قادیان سے آئے ہیں اور کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔اسے پہلے سے سب حالات معلوم تھے۔اور دراصل یہ دیوار ایک سازشی تحریک تھی۔جس میں حکومت کا ہاتھ پیچھے تھا۔اس پر وہ سخت جوش میں آ کر غصہ سے بڑھا۔اور کہا تم مجھ پر رعب ڈالنے آئے ہو۔میں خوب جانتا ہوں۔اور ابھی تمہارا انتظام کرنے والا ہوں۔( میں یہ مفہوم لکھ رہا ہوں۔عرفانی) اور (ڈپٹی ) سپرنٹنڈنٹ پولیس کو مخاطب کر کے کہا کہ ان لوگوں کا بندو بست کرنا چاہئے۔اور بڑے جوش سے کہا: وو چلے جاؤ ورنہ گرفتار کر لئے جاؤ گے“ میں نے کہا۔آپ جو ہم عرض کرنا چاہتے ہیں سن تو لیں۔اس پر ( وہ ) غضبناک ہو گیا۔اور ہم واپس آگئے۔اور حضرت اقدس علیہ السلام سے سب قصہ کہہ دیا۔آپ کو جماعت کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف تھی۔ڈپٹی کمشنر کی اس بے رخی پر افسوس ہوا۔اس سلسلہ میں آپ نے اس خیال کا بھی اظہار فرمایا کہ ہم کو اگر یہاں پر امن سے کام نہ کرنے دیا جائیگا تو ہم کو تو کام کرنا ہے۔( ہم کسی اور جگہ چلے جائیں گے۔انبیاء کے لئے ہجرت بھی کرنی پڑتی ہے۔اور ہمیں بہت عرصہ ہوا کہ ” داغ ہجرت‘ الہام ہوا تھا۔شاید اس کا وقت آ گیا ہے۔پھر ہجرت کے مقام پر بھی کچھ گفتگو ہوئی۔مجھے یہ اچھی طرح یاد ہے کہ چوہدری حاکم علی صاحب نے اپنے گاؤں میں جانے کی تجویز کی تھی۔بہر حال اس موقعہ پر داغ ہجرت کا ذکر ہوا تھا۔