اصحاب احمد (جلد 9) — Page 227
۲۲۷ مگر سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے کسی قدرسکوت کے بعد فرمایا: اچھا جب اذن ہوگا“ اس تاریخی واقعہ پر آج نصف صدی سے زائد عرصہ گذرتا ہے جن اصحاب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان مبارک سے داغ ہجرت کا الہام سنا وہ اب غالبا چند ہی بزرگ زندہ ہوں گے۔میر امنشاء اس تاریخی واقعہ کو بیان کرنے سے یہ ہے کہ یہ تفصیل بھی مستقل طور پر تاریخ سلسلہ میں محفوظ ہو جائے اور قادیان کے وہ احباب جن کو اس خدائی تقدیر کے ماتحت داغ ہجرت لگ چکا ہے وہ ہجرت کے اصل مقصد کو سمجھیں۔بیشک الٹمی قانون من يهـا جـرفى سبيل الله يجد في الارض مراغما كثيرا وسعة ٤٢ کے ماتحت خدا تعالیٰ نے ایسے مہاجرین کے کئی قسم کی وسعت اور آرام عطا کیا ہے۔لیکن ہجرت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ہمارے موعود خلیفہ اور امام کی غرض یہ نہ تھی۔بلکہ اصل غرض اعلائے کلمتہ اللہ تھی۔اور ان روکوں اور مشکلات کو اٹھا نا تھی جو اشاعت و ترقی دین کی راہ میں حائل تھیں۔یا جن کے حائل ہونے کا امکان تھا۔آئندہ اللہ تعالی زیادہ وسعتیں اور مراغماً کیثر أعطا فرمائے گا۔لیکن یہ سبھی کچھ تبھی بابرکت ہوسکتا ہے جبکہ اصل غرض ہجرت یعنی اشاعت دین مدنظر رہے۔۔اسلام کے دور اول میں انصار و مہاجرین کے اخلاص پر اللہ تعالیٰ نے رضى الله عنهم ورضواعنه کی مہر تصدیق ثبت کر دی تھی ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے۔جنگ بدر کے لئے نکلتے وقت ایک انصاری نے کہا کہ یا رسول اللہ ! شاید حضور کا اشارہ اس معاہدہ کی طرف ہے جو حضور کی مدینہ میں تشریف آوری سے پہلے ہم نے کیا تھا۔اس وقت ہم حضور کے مقام کو نہیں پہنچانتے تھے۔یا رسول اللہ ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی۔آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی۔اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا آگے نہ بڑھے۔میں بھی اس وقت کے انصار کی زبان بن کر یہ الفاظ دو ہرا تا ہوں کہ ” جب تک یہ الہی امانت ہمارے پاس رہی اور جہاں تک ہم ہے ہو سکا ہم نے خدمت کی۔اب حکمت الہیہ کے ماتحت یہ امانت آپ کے سپرد ہے۔نہ صرف سیدنا خلیفہ اسیح الثانی واصلح الموعود کی ذات ستودہ صفات بلکہ حضرت ام المؤمنین۔۔۔نسل سیدہ خواتین مبارکہ اور جملہ افراد خاندان سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام بھی اس امانت میں شامل ہیں اس کا حق ادا کرنا آپ لوگوں کے ذمہ ہے۔پس دیکھنا اسے اپنی جانوں سے عزیز رکھنا اور کسی قربانی سے دریغ نہ کرنا۔“ (مختصراً آپ کا مضمون بدر جلدا