اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 220 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 220

۲۲۰ -٣ اس اعلان کا ہونا تھا کہ جہاں یکجائی فہرست میں ہر کسی نے دوسرے سے پہلے اپنا نام لکھانے کی کوشش کی۔وہاں فرداً فرداً بھی رقعات اور عرائض بھیجنے کی سعی کی۔ایک فہرست حضرت مولانا مولوی نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیر قیادت تیار ہوئی تھی۔اور میرا خیال ہے کہ اسی طرح بعض دوستوں نے اور بھی دو ایک فہرستیں تیار کر کے اندر بھجوائی تھیں۔کتنے رقعات اور عرائض فرداً فرداً حضرت کے حضور پہنچائے گئے ان کا حساب اللہ تعالیٰ کو ہے کیونکہ ہر شخص کی خواہش تھی کہ میرا عریضہ پہلے اور حضرت کے اپنے ہاتھ میں پہنچے۔چنانچہ اس کوشش میں اس روز حضور کی ڈیوڑھی کیا اور مسجد مبارک کی طرف سے سیٹرھیاں کیا خدام سے اٹی رہیں اور بچوں اور خادمات نے بھی دوستوں کے عریضے اور خطوط پہنچانے میں جو احسان کیا وہ اپنی جگہ قابل رشک کام تھا۔اس زمانہ میں عیدین کے موقعہ پر بھی دارالامان میں بیر ونجات سے آنے والے احباب کی وجہ سے خاص چہل پہل ہو جایا کرتی تھی اور جلسہ کا سارنگ معلوم دیا کرتا تھا۔رقعات اور عرائض کا سلسلہ بہت زیادہ لمبا ہو گیا۔اور بچوں اور خادمات کے بار بار جانے کی وجہ سے حضور کی توجہ الی اللہ میں خلل اور روک محسوس ہوئی تو حکم دیا گیا کہ اب کوئی رقعہ حضرت کے حضور نہ بھیجا جاوے۔الغرض دن اونچا ہونے سے لے کر ظہر تک اور ظہر کے بعد سے عصر اور شام بلکہ عشاء کی نماز تک سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دروازے بند کئے دعاؤں میں مشغول اپنی جماعت کے لئے اللہ کے حضور التجائیں کرتے رہے اسلام کی فتح اور خدا کے نام کے جلال و جمال کے ظہور۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت اور احیاء وغلبہ اسلام کے لئے نہ جانے کس کس رنگ میں تنہا سوز وگداز سے دعائیں کرتے رہے۔یہ امر دعائیں کرنے والے جانتے ہیں یا جس ذات سے التجائیں کی جائیں وہ جانتا ہے۔لوگوں نے جو کچھ سنا وہ آگے سنا دیا۔یا قیاس کر لیا ور نہ حقیقت یہی تھی کہ خدا کا برگزیدہ جانتا تھا یا پھر خود خدا جس سے وہ مقدس کچھ مانگ رہا تھا۔-۴- دوسرا دن عید تھا۔اللہ تعالیٰ نے کل کی دعاؤں کو سنا اور نوازا۔اس روز کی تنہائی کے راز و نیاز کو قبول فرمایا۔اور حضور کو بشارتیں دیں جن کے نتیجہ میں حضور کی طرف سے حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب و حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب اور بعض اور احباب خاص کو یہ ارشاد پہنچا کہ آج ہم کچھ بولیں گے اور عربی زبان میں تقریر کریں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عربی میں نطق کی خاص قوت عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے لہذا آپ لکھنے کا سامان لے کر مسجد میں چلیں۔اس خبر سے قادیان بھر میں مسرت و انبساط کی