اصحاب احمد (جلد 9) — Page 219
۲۱۹ ھوالناصر عید قربان ۱۹۰۰ ء اور خطبہ الہامیہ الحمد الله - الحمد الله - ثم الحمد الله الذي هدانا لهذا وما كنا لنهتدي لولا ان هدانا الله۔لقد جاءت رسل ربنا بالحق۔اللہ تعالیٰ کا خاص بلکہ خاص الخاص فضل ہے کہ مجھ نا کارہ نالائق کو لطف وکرم سے نوازا۔اور سراسر احسان سے اٹھا کر اپنے برگزیدہ اور حبیب جری اللہ فی حلل الانبیاء کے قدموں میں لا ڈالا۔۱۹۰۰ء کے مندرجہ عنوان نشان کے ظہور کے وقت بھی مجھ غلام کو حضوری کا شرف میسر تھا۔اس طرح اس روز کے علمی معجزہ کو آنکھوں دیکھنے اور کانوں سننے کی سعادت نصیب ہوئی۔و ذالک فضل الله علينا وعلى الناس ولكن اكثر الناس لايشكرون ۲۔عید کے پہلے دن یعنی حج کے روز سید نا حضرت اقدس کی طرف سے چاشت کے وقت یہ اعلان کرایا گیا کہ قادیان میں موجود تمام دوستوں کے نام لکھ کر حضرت کے حضور پیش کئے جائیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے محض فضل اور رحم سے یہ دن حضور پُر نور کے لئے دعاؤں کی قبولیت کے واسطے خاص فرما کر حضور کو اذن دیا تھا اور حضور خدا کے اس انعام میں اپنے خدام کو بھی شریک فرمانا چاہتے تھے ورنہ ۹۵ ء سے اس دن تک پانچ چھ سالہ فیض صحبت کی سعادت سے بہرہ ور ہونے کی وجہ سے میں کہہ سکتا ہوں کہ اس دن کے سوا حضور کی طرف سے اس قسم کا اعلان پہلے کبھی ہوتا میں نے نہ دیکھا نہ سنا تھا۔یوں تو دعاؤں کے لئے ہم لوگ اکثر لکھتے اور عرض کرتے رہا کرتے تھے اور بعض اصحاب حسب ضرورت وحاجت اکثر روزانه اور متواتر ہفتوں بھی حضرت کے حضور دعاؤں کی درخواستیں بھیجا کرتے تھے۔حضور کی مجلس کے دوران میں بھی کبھی کبھی احباب التجاء دعا کرتے جس کے جواب میں عموما تو حضور فرمایا کرتے۔انشاء اللہ دعا کروں گا یاد دلاتے رہیں۔اور کئی بار ایسا بھی ہوا کرتا تھا کہ ادھر کسی نے دعا کے لئے عرض کیا ادھر حضور نے دست دعا اللہ تعالیٰ کے حضور بڑھا کر اس کے لئے دعا کر دی۔جس میں حاضرین مجلس سبھی شریک ہو جایا کرتے۔تحریری درخواست ہائے دعا کے جواب میں بعض دوستوں کو حضور خود دست مبارک سے جواب تحریراً بھی دیا کرتے تھے مگر اس یوم الج کے روز تو ضرور کوئی خاص ہی فضل الہیتھا جس میں حضور نے از راہ شفقت تمام خدام، احباب اور مہمانوں کو شامل کرنے کے لئے خاص طور سے اعلان کرایا تھا۔