اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 193 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 193

۱۹۳ انبیاء اور خدا کے رسول علیہم الصلوۃ والسلام جو اس دنیا کے عالم اسباب اور رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا کے پر معرفت قول کے قائل اول ہوتے ہیں گو اسباب کو خدا کی مفید اور کارآمد مخلوق سمجھ کر ان کو موقعہ محل کی مناسبت سے جمع بھی کرتے ہیں مگر حقیقتا ان کا تو کل اور بھروسہ صرف اور صرف خدا پر ہوتا ہے۔تائید و نصرت اور فتح و ظفر کے کھلے وعدوں کی موجودگی میں وہ اس طرح دعائیں کرتے اور گڑ گڑاتے ہیں کہ دیکھنے سننے والے ان وعدوں کے متعلق شبہات میں پڑ کر سوال کرنے لگتے ہیں۔ان صالحین اور صادقین واتقیاء کے ساتھ حفاظت و سلامتی کے خدائی وعدے ہوتے ہیں مگر وہ ظاہری سامانوں سے بھی بے پروائی نہیں کرتے۔کیونکہ خدا کی صفات و اسماء کا علم سب سے زیادہ انہی کو دیا جاتا ہے وہ خدا کے غناء ذاتی سے ڈرتے اور عباد شکور ہوتے ہیں۔حضور پرنور نے دوستوں کی درخواست کو منظور فرماتے ہوئے اسی موضوع پر ایک مختصر مگر روح پرور تقریر فرمائی اور حکم دیا کہ بہتر ہے احتیاطاً پہرہ کا انتظام کر لیا جائے۔غرض یہ ہے کہ قادیان میں پہرہ کی تاریخ اور یہ ہیں اس کے اجراء کے وجوہ جس کی ابتداء یوں ہوئی کہ پہرہ کی منظوری دینے کے بعد خود ہی حضور نے فرمایا۔جولوگ اس خدمت کے لئے تیار ہوں، آگے آجائیں (یا کھڑے ہو جائیں ) ان دونوں میں سے کوئی الفاظ تھے۔کئی مخلص ، سعید اور خوش بخت نوجوان آگے بڑھے کھڑے ہوئے۔ہر ایک نے اخلاص سے اپنے آپ کو پیش کیا۔محبت اور جوش عقیدت سے اس خدمت کا بار اپنے اوپر لیا۔کئی قبول ہوئے۔بعض معذور سمجھے جا کر مستحق ثواب مگر پہرہ معاف قرار پائے۔ہدایات ملیں۔اور نبی اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کی توجہ اور دعا نصیب ہوئی زہے نصیبہ۔خوشا وقتے وخرم روز گارے۔الحمد لله - الحمد لله ـ ثم الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على الانبياء والمرسلین میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان خوش قسمت قبول ہونے والوں میں سے ایک تھا۔جن کو خدا کے موعود نبی مسیح الخلق جری اللہ فی حلل الانبیاء نے نظر شفقت اور محبت بھری نگاہوں سے دیکھا اور قبول فرمایا۔یہ کہنا کہ میں پہلے بڑھا یا دوسرا کوئی مجھ سے پیچھے اٹھا، خطرہ سے خالی نہیں۔کیونکہ یہ باتیں خدا کے فضل پر موقوف ہیں۔جو دلوں کو جھانکتا اور انسانی قلوب کے نہاں در نہاں حالات کو جانتا اور اس کا فیصلہ سچا اور حقیقی ہوتا ہے۔کئی چھوٹے بڑے کر دیئے جاتے ہیں اور کئی بڑے چھوٹے ہو جایا کرتے ہیں۔مگر نہیں کہا جا سکتا کہ کوئی ظلم ہوا۔اس کے سارے کام حق اور حکمت پر مبنی اور سارے فیصلے صحیح علم اور میزان حق سے