اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 189 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 189

۱۸۹ ہو گیا اور حو صلے بھی بڑھ گئے تو اجلاس اس مجلس کے مسجد اقصیٰ میں ہونے لگے جہاں بچوں سے نکل کر بڑے لوگ بھی شریک ہوتے۔ہماری تقریروں پر جرح قدح اور تنقید کر کے اصلاح کرتے۔طریق تکلم اور طرز تقریر سکھایا کرتے تھے۔خادم صاحب بھیروی وغیرہ وغیرہ احباء کے علاوہ حضرت مولانا مولوی شیر علی صاحب بھی ان بزرگوں میں سے ایک تھے۔اس طرح جہاں ہماری اصلاح ہوئی۔بیان میں روانی اور کلام میں ترتیب وقوت آئی۔بزرگوں کی تو جہات کا بھی ہماری یہ انجمن مرکز بنے لگی۔اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ بچوں کی بجائے اب بڑے بوڑھے اور بزرگ زیادہ شرکت فرمانے لگے۔انجمن کی رونق کے ساتھ ساتھ عزائم بھی بلند ہوتے گئے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اسی ہماری انجمن میں ایک مرتبہ سید نا حضرت نورالدین۔۔۔رضی اللہ تعالیٰ عنہ شریک تھے۔ہمارے آقا نامدار سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نور نظر۔لخت جگر نے جن کی شان میں ازل سے خداوند ہمارے خدا نے مَظْهَرُ الْحَقِّ وَالْعَلَاءِ كَانَ اللَّهَ نَزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ کا مقام محمود لکھ رکھا تھا، تقریر فرمائی۔تقریر کیا تھی علم و معرفت کا (ایک ) دریا اور روحانیت کا ایک سمند ر تھا، تقریر کے خاتمہ پر حضرت نورالدین اعظم کھڑے ہوئے۔اور آپ نے تقریر کی بے حد تعریف کی۔قوت بیان اور روانی کی داد دی۔نکات قرآنی اور لطیف استدلال پر بڑے تپاک اور محبت سے مرحبا جزاک اللہ کہتے دعائیں دیتے، نہایت اکرام کے ساتھ گھر تک آپ کے ساتھ آ کر رخصت فرمایا۔یہی وہ انجمن ہے جو ترقی کرتے کرتے آخر ایک دن اس قابل ہوگئی کہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور سے شرف باریابی نصیب ہوا اور وہ تفخیذ الاذھان کے مقدس نام سے سرفراز ہو کر نمودار ہوئی۔اس کے اجلاس میں نافعے بھی ہوئے۔لمبے لمبے وقفے بھی ہوئے۔اور اس پر فترت کا زمانہ بھی آیا۔اور (وہ) ایسی غائب ہوئی کہ گویا اس کا وجود ہی معدوم ہو گیا۔مگر کسی نیک گھڑی، سعید ساعت اور مقدس ہاتھوں اس کی بنیاد رکھی گئی تھی۔خدا نے اسے ضائع ہونے سے بچالیا۔۱۹۰۳ عیسوی کے اواخر میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام) نے مجھے اپنے ایک عزیز مرزا محمد احسن بیگ صاحب رئیس کی درخواست پر ان کے کاروبار کے ذیل میں قادیان سے باہر جانے کا حکم دیا۔میری غیر حاضری میں ہماری یہ انجمن گویا معطل و کالعدم رہی۔جس کا مجھے سفر میں بھی درد رہتا تھا۔آخر ۱۹۰۶ء کے نصف ثانی میں مجھے وہیں کسی طرح یہ اطلاع ملی کہ ہماری اس پیاری انجمن کا سیدنا