اصحاب احمد (جلد 9) — Page 183
۱۸۳ پوری ہو کر تازہ نشانوں سے مومنوں کو قوت ونور حاصل ہو۔اس موقعہ پر کمرہ عدالت سے باہر جو کچھ گذری یعنی کپڑے کا واقعہ ، پولیس کی کرسی کا معاملہ وہ احباب نے عرض کیا تو حضور مسکرائے اور پھر اتنے ہنسے کہ عادت شریف کے مطابق حضور کی آنکھوں میں پانی بھر آیا۔اور سبحان اللہ سبحان اللہ کہتے ہوئے إِنِّي مُهِينٌ مَّنْ أَرَادَ اهَانَتَكَ کے کلام الہی کو بار بار یاد فرماتے اور پھر سبحان اللہ سبحان اللہ اور سبحان اللہ کے ورد میں لگے رہے۔حضرت اقدس نے ایک بات یہ بھی سنائی کہ : جرح کے دوران میں ہمارے وکیل یعنی مولوی فضل دین صاحب آف لاہور نے مولوی محمد حسین صاحب پر ایک جرح کرنی چاہی مگر ہم نے اس کی اجازت نہ دی۔ہمارے وکیل نے اصرار بھی کیا اور کہا کہ وہ تو آپ کی موت کے سامان اور پھانسی کی تیاریوں میں لگا ہوا ہے اور آپ اس کی عزت بچاتے۔اس پر رحم کرتے اور فرماتے ہیں کہ اس میں اس بیچارے کا کیا قصور تعجب ہے۔“ مگر با وجود وکیل صاحب کے اصرار کے حضور نے اس قسم کی جرح کی اجازت نہ دی اور اس طرح جہاں مولوی محمد حسین کی ذات اور اولا دو نسل پر کبھی نہ ختم ہونے والا احسان فرمایا۔وہاں آپ نے اخلاق محمدی اور خلق عظیم کی بھی ایسی بے نظیر مثال قائم کر دی جو رہتی دنیا تک چاند اور سورج کی طرح چپکتی اور سنہرے حروف سے لکھی جاتی رہے گی۔مولوی فضل الدین صاحب وکیل باوجود غیر احمدی ہونے کے ہمیشہ اس امر سے اتنے متاثر رہے کہ جہاں اس واقعہ کا ذکر عموما کرتے رہتے وہاں حضرت کے خلاف کوئی کلمہ سننے کو گوارا نہ کیا کرتے تھے۔ایسے ذکر اذکار سے فارغ ہو کر نمازیں پڑھی گئیں نماز سے فراغت پا کر حضور نے فرمایا: میاں عبد الرحمن ! آج رات ہم تو یہیں ٹھہریں گے۔کیونکہ کل پھر مقدمہ کی سماعت ہوگی بہتر ہے کہ آپ قادیان جا کر خبر خیریت پہنچا دیں۔تا کہ وہ لوگ گھبرائیں نہیں۔آپ رات کو ہوشیار رہیں۔ہم بھی انشاء اللہ کل فارغ ہو کر پہنچ جائیں گے۔“ حکم پا کر میں نے سلام عرض کیا۔دست بوسی کا شرف ملا اور میں سفر کو کا نماز مین کو لپیٹتا ہوا گو یا اڑ کر ہی قادیان پہنچا۔سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور خاندان کی بیگمات واراکین کی خدمت میں حاضر ہو کر آج کی تمام روئیداد تفصیلاً عرض کی اور حضرت کے ارشاد کے مطابق تسلی و اطمینان دلایا۔اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے رات کے پہرہ کی خدمت کا بھی موقعہ دے کر نوازا۔فالحمد للہ علی ذلک۔