اصحاب احمد (جلد 9) — Page 177
۱۷۷ جایا کرتے ہیں۔مگر یہ مقدمہ نہ صرف یہ کہ اقدام قتل کا مقدمہ تھا بلکہ اس کے ساتھ ہی یہ اضافہ کہ ایک ایسے انگریز پادری کی طرف سے دائر کیا گیا تھا جو علاوہ اپنے اثر ورسوخ اور وسائل و اسباب کے حکمران قوم کا فرڈ پادری ہونے کے باعث اپنی قوم میں ممتاز حیثیت کا مالک اور واجب الاحترام ہستی مانا جاتا تھا۔اس پر طرفہ یہ کہ صاحب ڈپٹی کمشنر بہا در خصوصیت سے پادری منش مذہبی آدمی اور کٹر عیسائی مشہور تھے۔ان تمام باتوں کو ملا کر یکجائی غور کرنے سے اس مقدمہ کی نوعیت کتنی مہیب خوفناک اور ڈراؤنی بن جاتی ہے؟ ظاہر ہے۔مگر یہ سب کچھ انہی کے لئے ہوتا ہے جن کا اپنے خدا سے ( نہ ) کوئی تعلق ہوتا ہے نہ اس پر ایمان۔جن کو خدا کی محبت و وفا کے چشمہ کا (نہ) ہوتا ہے نہ اس کی صفات کا عرفان۔جن کو خدا کی قدرت پر (نہ) بھروسہ ہوتا ہے نہ نصرت کی امید۔بلکہ وہ اپنی تدابیر اور کوششوں ہی کو اپنا حاجت روا اور مطلب برار سمجھ بیٹھتے۔ان کی نظر زمینی اور مادی اسباب پر گڑی رہتی ہے۔آسمان سے ان کا کوئی تعلق نہ آسمان والے سے سروکار ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے مطاع و متبوع کی کامل محبت اور کامل پیروی سے اللہ کریم نے وہ مقام عطا فرما رکھا تھا کہ حضور نہ صرف خود بھی مشکلات و مصائب کے پہاڑوں اور مخالفت وعداوت کے طوفانوں سے نہ گھبرایا کرتے تھے۔بلکہ ہمیشہ دوسروں کی تسلی اور سکون وامن کا موجب بھی ہوا کرتے تھے۔یقیناً ہم لوگ ایسی خبروں سے گھبراتے اور خوف کھایا کرتے تھے کیونکہ بشریت ہمارے ساتھ لگی ہوئی تھی۔خدا جانے اب کیا ہوگا ؟ مگر جب حضور ہم پر جلوہ افروز ہوتے۔مجلس لگتی دربار سجتا اور خدا کا کلام ہم پر پڑھا جاتا۔اس کے وعدے دوہرائے جاتے اس کے حسن واحسان کے تذکرے ہوتے اس کی قدرت نمائی کی مثالیں کانوں میں پڑتیں۔نشانات یاد دلائے جاتے تو ہمارے خوف امن سے ، خطرات تسلیوں سے اور رنج و غم خوشیوں میں تبدیل ہو کر ایمان کی زیادتی اور خدا کی معرفت کے دروازوں کے کھل جانے کا موجب ہوا کرتے۔برسات کا موسم اور اگست کا مہینہ تھا۔قادیان میں سواری کا کوئی معقول انتظام نہ تھا، بمشکل ایک یکہ کا انتظام ہوسکا۔دوسرے کے لئے کوشش جاری تھی۔مگر وقت پر نہ پہنچا تو سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو روانہ ہو گئے تا کہ وقت پر پہنچ سکیں۔حضور نے حضرت حکیم الامت مولانا نورالدین اعظم کو اپنے ساتھ بٹھا لیا۔تین غلام ہمرکاب تھے۔شیخ محمد اسمعیل صاحب سرساوی یا حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب اور یہ عاجز راقم یعنی عبدالرحمن قادیانی۔راستہ کیچڑ گارے کے باعث سخت تکلیف دہ اور رض