اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 176 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 176

۱۷۶ روک لیا گیا۔الغرض گورداسپور اور امرتسر دونوں جگہ سے باوجود کوشش کے وارنٹ کے متعلق یقینی طور پر کچھ معلوم ہو سکا اور نہ ہی یہ معمہ حل ہوا کہ وارنٹ کے اجراء کے بعد اس کے روکے جانے کے لئے امرتسر کے ڈپٹی کمشنر نے تارکیوں دیا؟ خبر بلا تفصیل ہم لوگوں کے لئے تو متوحش اور تشویشناک تھی مگر حضرت اقدس جن کی ذات والا صفات کے متعلق تھی۔مطمئن اور حسب معمول ہشاش و بشاش نظر آتے تھے۔کوئی گھبراہٹ تھی نہ پریشانی۔فکر دامن گیر تھا نہ اندیشہ وملال۔حضور حسب معمول مہمات دینیہ میں مصروف، نمازوں میں شریک ہوتے اور دربار بھی اسی آب و تاب سے، اسی شان و شوکت سے لگتا۔سلسلہ فراہمی اسباب کی سرگرمیوں کے علاوہ اور کوئی خاص رنج و غم یا ہم وحزن کے آثار دیکھنے میں آتے نہ سننے میں بلکہ ذکر ہوتا تو یہی کہا : ”ہمارا تو ایسی باتوں سے اپنے رب کے ساتھ اور زیادہ تعلق محبت و وفا بڑھتا ہے۔اس کی تائید اور نصرت کا یقین ہوتا بلکہ ہم امید وار ہوتے ہیں کہ اب ضرور کوئی نشان ظاہر ہو گا۔“ اسی روز یا زیادہ سے زیادہ دوسرے ہی دن پھر ایک آدمی گورداسپور سے چوہدری صاحب مغفور کی چٹھی لے کر آیا جس میں اس امر کی وضاحت تھی کہ معاملہ کیا ہے۔نیز لکھا تھا کہ وہ مقدمہ امرتسر سے گورداسپور آ گیا ہے اور کہ حضور کے نام بجائے وارنٹ گرفتاری کے سمن جاری ہو چکا ہے جو اگلے روز حضور کی بٹالہ میں حاضری کے لئے سپیشل آدمی کے ہاتھ برائے تعمیل بھیجا جا چکا ہے۔مگر امرتسر سے جاری شدہ وارنٹ کے متعلق پھر بھی کوئی اطلاع نہ آئی کہ وہ کیا ہوا؟ اس تفصیلی اطلاع پر حضور نے پھر بعض دوستوں کو گورداسپور اور لا ہور بھیج کر پیروی مقدمہ کے لئے گورداسپور سے شیخ علی احمد صاحب وکیل اور لاہور سے شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم کی معرفت کسی قابل قانون دان کی خدمات حاصل کرنے کا انتظام فرمایا۔ادھر چوہدری صاحب کے خط کے بعد سرکاری پیادہ بھی سمن لے کر آ گیا اور اگلے دن صبح کو بٹالہ جانے کی تیاری ہونے لگی۔- مقدمہ کی نوعیت یعنی اقدام قتل بجائے خود ایک خطر ناک اور مکر وہ الزام تھا جس کی مجر دخبر ہی معمولی تو در کنار بڑے بڑے دل گردہ کے لوگوں کے اوسان خطا کر دیا کرتی ہے۔اور ایسے حالات میں ان کو کچھ سوجھا کرتا ہے نہ ان سے کچھ بن پڑتا ہے۔اکثر حواس باختہ ہو کر پاگل ہو جاتے اور گھر ان کے ماتم کدہ بن