اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 170 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 170

۱۷۰ مطابق جو حضرت زید مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ان کے والدین کو پیش آیا تھا۔اپنے مقدس آقا کو جس کی غلامی میں میں تھا چھوڑنے سے انکار کر دیا۔اپنی والدہ کو یہ کہا کہ وہ ذرا اس مقدس اور پُر شفقت ہستی کو تو ملے جس کی غلامی پر مومنوں کی تمام جماعت فخر کرتی ہے۔چنانچہ میری والدہ میری درخواست و اصرار پرسیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا سے ملاقی ہوئیں۔اور تھوڑے سے وقت کی ملاقات سے ہی حضرت ممدوحہ کے اخلاق کریمانہ کی والہ وشیدا ہو کر واپس لوٹیں۔اور اس بات کا اظہار کرتی گئیں کہ اگر میرا بچہ مجھے چھوڑ کر ایک ایسی مشفقہ اور کریمہ ومحسنہ کی غلامی میں آ گیا ہے تو یہ میرے لئے اور میرے خاندان کے لئے کوئی باعث تشویش امر نہیں۔یہ تھے سیدۃ النساء کے اخلاق فاضلہ۔بھائی جی کو تبرک قرار دینا اس وقت صدمہ تازہ ہے اور زخم ہرے ہیں اس لئے جذبات میں کھوئے جانے کے باعث اپنے خیالات کو مجتمع نہیں کر سکتا اور نہ ہی حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سیرت کے متعلق سر دست تحریر کر سکتا ہوں۔ہاں ایک دو مختصر واقعات احباب کے سامنے پیش کر دیتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ نیز لاہور کے مقدس ایام تھے۔حضور لاہور میں خواجہ کمال الدین صاحب کے گھر میں فروکش تھے۔ایک دن بعض دوستوں نے مجھ سے حضرت اقدس علیہ السلام کا تبرک حاصل کرنے کی فرمائش کی۔میں اپنے آقا کی عتبہ عالیہ پر حاضر ہوا۔دستک دی اندر سے سیدۃ النساء نے فرمایا ” کون ہے عرض کی کہ حضور خادم و غلام عبدالرحمن قادیانی۔آنے کی غرض دریافت فرمائی۔جس پر اس عاجز نے عرض کی کہ میسیج پاک کے تبرک کے حصول کے لئے حاضر ہوا ہوں۔حضرت اقدس علیہ السلام کے سامنے کھانا چنا ہوا تھا۔اور حضور معہ اہل بیت تناول فرما رہے تھے۔سیدۃ النساء نے طشت آگے سے اٹھایا اور اس حقیر خادم کو عطا کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود کی موجودگی میں فرمایا کہ بھائی جی آپ تبرک ما نگتے ہیں؟ آپ تو خود ہی تبرک ہو گئے ہیں۔“ اللہ ! اللہ ! حضرت ممدوحہ کی نگاہ لطف نے اس حقیر غلام کو غلام ہوتے ہوئے بھی تبرک بنا دیا۔محترم قارئین کرام! میں اس موقعہ پر آپ سے التجا کرتا ہوں کہ ازارہ کرم اس نوٹ کو پڑھتے ہوئے بھی اور بعد میں بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان الفاظ کو حقیقت میں ہی بنادے۔