اصحاب احمد (جلد 9) — Page 149
اور غالیا ۱۴۹ مَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا إِنَّ الَّذِيْنَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ : وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخُسِرِينَ ] اللهم صلى على محمد وال محمد و بارک وسلم انک حمید مجید ۲۶ مُبَارِک وَمُبَارَكٌ و كُلُّ أَمْرٍ مُّبَارَكِ يُجْعَلُ فِيْهِ ۲۷ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ | لکھا ہوا تھا۔دوسرا حصہ مسجد مبارک کا اس حجرہ کی جانب شرق واقع تھا اور حجرہ اور اس حصہ کو ایک دیوار جدا کرتی تھی۔اس حصہ کا طول شرقاً غرباً 9 فٹ ۱۱۔انچ اور عرض شمالاً جنوباً ۷ فٹ 11۔انچ تھا۔اس میں دوکھڑکیاں اور دو دروازے کھلتے تھے۔ایک تو وہی کھڑکی یا دروازہ جو حجرہ میں کھلتا تھا۔اور دوسرا دروازہ مشرقی حصہ اور اس کی درمیانی دیوار میں تھا۔ایک کھڑ کی بیت الفکر میں سے جو مسجد مبارک کے شمالی جانب ملحق ہے مسجد مبارک کے اس حصہ میں کھلتی تھی جس میں سے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تشریف لایا کرتے تھے اور یہ کھڑ کی اس وقت ( ستمبر ۱۹۶۰ ء ) تک اپنی اصل شکل میں قائم ہے اور یہ مسجد کی شمالی دیوار میں ہے۔ایک کھڑ کی جنوبی دیوار میں لگی ہوئی تھی۔جوان ایام میں ایک ویران خراس کے کھنڈر کی طرف کھلتی تھی۔جو مرزا نظام الدین وغیرھم کی ملکیت میں تھا۔اور بعد میں ۰۷-۱۹۰۶ء (میں) خرید کر حضور مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا اوپر کا حصہ مسجد میں اور نیچے کا حصہ دفاتر میں تبدیل فرما دیا۔( اور اس تغیر کی وجہ سے اصلی ابتدائی مسجد مبارک کی شکل اگر چہ قائم نہیں رہی مگر اب تک دیواروں کے نشانات موجود ہیں ) مسجد مبارک کا یہی ( دوسرا حصہ ) وہ حصہ ہے جس میں ( جماعت کی صف اول کھڑی ہوتی تھی اور ابتداء سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام صف اوّل میں کھڑے ہو کر صف کے بالکل دائیں جانب ( کھڑکی سے جانب غرب ذرا بڑھ کر ) دیوار شمال کے ساتھ لگ کر نماز با جماعت ادا فرمایا کرتے یا حضور کا دربار لگا کرتا تھا۔میں نے اس حصہ میں سب سے اول مرتبہ حضور کی زیارت کا شرف حاصل کیا تھا۔جب اس صف میں حضور شامل ہونے لگے اس سے پہلے حضور کھڑکی سے قدرے جانب مشرق گو یا دوسری صف میں کھڑے ہوتے تھے لیکن قاضی یارمحمد صاحب