اصحاب احمد (جلد 9) — Page 141
۱۴۱ آہستہ آہستہ اور بتدریج اللہ کریم رجوع واقبال خلق کے ساتھ ساتھ اس کی ضروریات کے بھی سامان مہیا فرماتے گئے۔موجودہ خام مہمان خانہ کی دوکوٹھڑیاں پہلے پہل حضور پر نور نے تیار کرائیں اگلا دالان جانب شمال بعد میں بنا ہے۔پہلے صرف پچھلی دو کوٹھڑیاں ہوا کرتی تھیں (مہمان خانہ میں معمولی قسم کی پانچ چھ لکڑی کی کرسیاں ہوتی تھیں بید کی کرسیوں کا اس وقت عام رواج نہ تھا ) قادیان میں ان ایام میں کچھ رونق مستقل مہمانوں یعنی مہاجرین اور آنے جانے والے احباب کی رہتی تھی مگر وہ بھی ایسی نہ تھی کہ اس کے چالیس بیالیس سال بعد کی آبادی یا آنے جانے والے مہمانوں سے اسے کوئی نسبت دی جاسکتی۔کیونکہ اس زمانہ میں صرف چند لوگ قادیان میں رہتے تھے۔زیادہ سے زیادہ دس پندرہ یا میں مستقل مہمان اور درویش لوگ تھے اور باہر سے آنے والوں میں عموماً حضرت مفتی محمد صادق صاحب مرزا ایوب بیگ صاحب مرحوم اور ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور کپورتھلہ کی جماعت کے بعض پرانے بزرگ ایسے ہیں جن کے متعلق مجھے بخوبی یاد ہے کہ اکثر آتے رہتے تھے۔مگر سلسلہ آمد مہمانان بہت ہی کم اور محدود تھا۔( مہاجرین جن کے نام میری مطبوعہ روایت میں ہیں ان کے علاوہ حضرت حکیم مولوی فضل الدین صاحب بھیروی حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی۔حضرت پیر افتخار احمد صاحب، حضرت پیر منظور محمد صاحب، حضرت حافظ حامد علی صاحب ، حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب نو مسلم۔بھائی عبدالعزیز صاحب نو مسلم اور مفتی فضل الرحمن صاحب بھی ۱۸۹۵ء میں ہجرت کر کے آچکے تھے۔نیز اچھوت کہلانے والی اقوام میں سے بقیہ حاشیہ: - - حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب ان کے حصہ دار مسیح میں جو مسجد مبارک کی بالائی چھت سے ملحق ہے رہائش پذیر ہو گئے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد وہاں سے منتقل ہوئے تھے۔اداران محترم قدرت اللہ خان صاحب، حضرت سیدہ ام ناصر صاحب الی دار مسیح کی مغربی ڈیوڑھی پر دربان تھے اور ان کی اہلیہ صاحبہ اندرون خانہ خدمت کرتی تھیں۔-۲ (ب) حضرت بھائی جی نے خاکسار مؤلف سے بیان کیا کہ محترم اکبر خاں صاحب ، حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ والی دارا مسیح کی مشرقی ڈیوڑھی پر دربان مقرر تھے اور مشرقی ڈیوڑھی اور گول کمرہ کے درمیان جو کمرہ ہے اس میں وہ اہل وعیال سمیت رہائش رکھتے تھے۔زیر عنوان مهمانخانه سارابیان الحکم بابت ۱۴، ۲۱ / جنوری ۱۹۴۰ء (صفحہ۱۶،۱۵) سے ماخوذ ہے۔