اصحاب احمد (جلد 9) — Page 140
۱۴۰ عموماً خدا کے برگزیدہ نبی ورسول علیہ الصلوۃ والسلام خود اٹھایا کرتے۔ان کی مہمان نوازی کا فرض براہ راست وہ حبیب الہی ادا کیا کرتے جن کی شان یہ تھی کہ خود خدا نے اپنے عرش سے ان کی تعریف و توصیف فرمائی۔يَحْمَدُكَ مِنْ عَرْشِهِ کتنے ہی خوش قسمت اور قابل رشک وہ مہمان تھے جن کا ایسا مقدس مہمان نواز ہو۔میں جس زمانہ کا ذکر کر رہا ہوں ان ایام میں بعض مہمان تو حضرت مولانا نورالدین صاحب کے مطب والے دالان اور شمال مغربی کوٹھڑی میں ٹھہرا کرتے تھے۔اور اکثر کو سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے الدار کے بعض حصوں میں جگہ دے دیا کرتے۔حضور آپ تنگ ہولیا کرتے۔تکلیف برداشت کرلیا کرتے مگر مہمانوں کے آرام کا بہر کیف انتظام فرماتے۔حضور کا مکان سارے کا سارا ہی گویا ایک مہمان خانہ تھا جس کے دائیں بائیں۔اندر باہر۔اوپر اور نیچے۔غرض ہر طرف مہمان ہی مہمان ہوا کرتے۔اس زمانے کا الدار بھی آپ یہ نہ سمجھ لیں جو آجکل ہے بلکہ بہت مختصر سا مکان تھا۔اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسی توسیع اور اتنے اضافے اس میں ہو چکے ہیں کہ پہلی حالت کا نقشہ بھی بہت مشکل سے خیال میں لایا جا سکتا ہے جس میں رہنے والے لوگوں کا اگر میں شمار لکھوں تو دنیا تعجب کرنے لگے کہ اتنے لوگ سماتے کہاں تھے۔اور ان کی موجودگی میں کیونکر حضور ایسی اہم ، لطیف اور دقیق ترین علمی تصانیف فرماتے۔اور مشاغل دینی کی انجام دہی سے عہدہ برآ ہوا کرتے تھے۔سیدنا نورالدین وہاں رہتے اور مع اہل وعیال رہتے۔حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی۔قبلہ حضرت نانا جان مرحوم و مغفور اور آپ کا خاندان - مرزا خدا بخش صاحب اور ان کے اہل بیت بلکہ بھانجے وغیرہ بھی۔پیر جی افتخار احمد صاحب مع اہل و عیال۔حافظ قدرت اللہ خان صاحب مرحوم تمام بال بچوں سمیت۔میاں کرم داد صاحب مرحوم مع عیال (میاں کرم داد صاحب بطور مہمان آئے تھے۔) حاجی حافظ احمد اللہ خان صاحب مرحوم و مغفور اور ان کے بیوی بچے۔ملک غلام حسین صاحب رہتاسی اور ان کا سارا گھرانہ۔اکبر خاں صاحب مرحوم مع اہل عیال اور بعض مقامی مغل خاندان کے یتامی و بیوگان وغیرہ وغیرہ جن کا ماوی و ملجا یہی ایک گھر تھا۔سارے تو اب نہ یاد ہیں اور نہ ہی مجھے یاد کرنے سے پورے یاد ہی آتے ہیں۔مولوی محمد علی صاحب آئے تو ان کو بھی حضرت اقدس نے الدار ہی کے حصہ میں پناہ دی تھی۔محترمہ اہلیہ صاحبہ حضرت بھائی جی نے خاکسار مؤلف سے بیان کیا کہ