اصحاب احمد (جلد 9) — Page 118
۱۱۸ اور عدل وانصاف سے آس پاس کے علاقے متمتع ہوا کرتے تھے۔اور اس کے حکمران اپنے اوصاف واطوار کے باعث جہاں بانی کے اہل اور حکمرانی کے مستحق یقین کئے جاتے تھے۔(ماخوذ از کتاب البریہ ) یہ تو ہوا تصویر کا روشن پہلو اور مسلمان خاندان کی حکومت کے زمانہ کا نقشہ اور فوٹو۔اب میں تصویر کا دوسرا رخ بھی پیش کرتا ہوں۔جو یہ ہے کہ خدا کی باریک در باریک نہاں درنہاں حکمتوں اور مصلحتوں کے ماتحت حالات نے پلٹا کھایا۔سکھوں نے غلبہ پایا اور رام گڑھیا مسل کے سکھ فریب سے قلعہ میں داخل ہو کر قابض ہو گئے۔قادیان کی دولت و ثروت اور اقتدار حکومت کے زوال کے ساتھ ہی امن بر باد۔علم مفقود اور نیکی اور نیکوکاری کالعدم ہو کر فساد و جہالت اور بدی و بدکاری نیز فسق و فجور کا دور دورہ ہو گیا۔ذی عزت، شریف اور امن پسند لوگ رام گڑھیوں کے آتے ہی خوف و ہراس کے مارے قصبہ کو چھوڑ کر عزت و آبرو لے کر خالی ہاتھ بھاگ گئے۔تباہی و بربادی کا مختصر سا نقشہ میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود اور مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے الفاظ میں درج کرتا ہوں جو یہ ہے: اس وقت ہمارے بزرگوں پر بڑی تباہی آئی اور اسرائیلی قوم کی طرح وہ اسیروں کی مانند پکڑے گئے اور ان کی مال و متاع سب لوٹی گئی۔کئی مسجد میں اور عمدہ عمدہ مکانات مسمار کئے گئے اور جہالت اور تعصب سے باغوں کو کاٹ دیا گیا اور بعض مسجدیں جن میں سے اب تک ایک مسجد سکھوں کے قبضہ میں ہے دھرم سالہ یعنی سکھوں کا معبد بنایا گیا۔اس دن ہمارے بزرگوں کا ایک کتب خانہ بھی جلایا گیا جس میں پانچ سو نسخه قرآن شریف کا قلمی تھا جو نہایت بے ادبی سے جلایا گیا۔اور آ خرسکھوں نے کچھ سوچ کر ہمارے بزرگوں کو نکل جانے کا حکم دیا۔چنانچہ تمام مردوزن چھکڑوں میں بٹھا کر نکالے گئے اور وہ پنجاب کی ایک ریاست میں پناہ گزیں ہوئے۔قضا و قدر کی نیرنگی اور زمانہ کی گردش نے گویا اس فارسی النسل خاندان کو پشتوں کی حکومت اور ریاست سے ایسا محروم کیا کہ خالی ہاتھ یہاں سے نکل گئے اور جو کچھ بنایا تھا۔یہیں چھوڑ گئے۔آنے والے لوگوں نے آتے ہی جو کچھ کیا اس کا خلاصہ آپ نے پڑھ لیا۔بعد میں جو کچھ ہوا اس کا اندازہ قادیان کی حالت سے کر لیں جو میں نے بچشم خود دیکھی اور وہ یہ تھی : 66 قادیان کی حالت اجڑے دو بازار برائے نام تین دکانیں جدھر نظر اٹھاؤ ویرانہ کھنڈر ( مکانات زیادہ تر کچے ) عمارات برباد اور مکانات مسمار اور بچے کھچے