اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 111 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 111

" آپ مزید تحریر فرماتے ہیں : - ۱۳ ☆66 سیالکوٹ کا احرار کا کارنامہ جو دس ہزار ( نام نہاد ) فرزندان تو حید نے مل کر مٹھی بھر احمدیوں کے آقا وا مام کو مغلوب کرنے خوفزدہ بنانے اور نا کام لوٹانے کی غرض سے سرانجام پہنچایا تھا جس پر ان کی نسلیں قیامت تک نادم وشرمندہ ہوا کریں گی۔اور قلعہ سیالکوٹ کا وہ حصہ ان کو خون کے آنسور لایا کرے گا۔اس میں مارے گئے صرف وہ پھر جو سٹیج پر آن گرے تھے وہ بھی میرے پاس محفوظ ہیں۔( ۱۴ تا ۴۴) حضرت سیدہ ام المؤمنین حضرت خلیفہ المسح اول اور حضرت خلیفہ المسح الثانی کے اکتیس مکتوبات و تحریرات آپ کے پاس محفوظ ہیں۔یہ سب خطوط اور بعض کے چربے مکتوبات اصحاب احمد جلد اول میں خاکسار مولف نے شائع کئے ہیں۔) تحریر کا نمونہ کے بارے میں آپ کی تحریر کا چربہ یہاں دیا جاتا ہے۔(صفحہ ۱۱۲ پر ) حضرت مسیح موعود السلام کے نام آپ کے ایک خط کا چربہ مکتوبات احمد یہ جلد ہفتم میں درج کیا جا چکا ہے۔روایات بوقت طبع اول کتاب ہذا حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کے سوا کوئی ایسا صحابی زندہ نہیں تھا جسے عقل و شعور کے زمانہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں آپ جتنا عرصہ رہنے کا موقعہ میسر آیا ہو اور پھر تمام فتنوں میں ان کا ایمان صحیح و سلامت رہا ہو۔میری مراد عرصہ صحبت سے ہے نہ کہ عرصہ صحابیت سے اور بھائی جی کو عرصہ صحبت ساڑھے سات سال سے اوپر حاصل ہوا ہے۔و ذالک فضل الله يو تيه من يشاء حضرت بھائی جی بیان فرماتے ہیں : ۲۷ رمئی ۱۹۰۸ ء تک سوائے کچھ عرصہ کی مفارقت کے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں میں رہا۔مجھے آپ کی معیت سفر میں، حضر میں، سیر کے وقت مختلف شہروں اور دیار میں۔مباحثات اور مقدمات کے ہنگاموں اور رات کے وقت پر سوز دعاؤں میں حاصل رہی۔اور حضور کے ی فرماتے ہیں ان میں کچھ جوتے بھی شامل ہیں اور یہ سب کچھ محفوظ ہے۔(آپ کے صاحبزادہ مہتہ عبدالقادر صاحب لکھتے ہیں کہ یہ قادیان میں ہمارے گھر میں محفوظ پڑے ہیں )۔مؤلف ہذا کے علم کے مطابق یہ پاکستان میں بچوں کے پاس محفوظ نہیں۔