اصحاب احمد (جلد 9) — Page 67
۶۷ مولوی آیا ہو گا۔آدمی تلاش میں دوڑائے مگر وہ ہاتھ نہ آیا۔ورنہ اس کو پتہ لگ جاتا کہ ہمارے گاؤں میں کسی مسلے کے آنے کا کیا مطلب؟ خوش نصیب تھا کہ بچ کر نکل گیا۔اچھا ہے ہمیں زیادہ ہوشیار کر گیا ہے۔یہ سن کر میری بھی جان میں جان آئی۔اور میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ورنہ میرے واسطے سخت مشکلات کا سامنا تھا۔اگر خدانخواستہ مولوی صاحب پکڑے جاتے۔اور ان کے قادیان سے آنے کا علم ہو جاتا تو ان لوگوں نے ضرور ان کی توہین کرنی تھی۔جس کو میں قطعا برداشت نہ کر سکتا۔اور اس طرح نہ معلوم کیا نتائج نکلتے اور کیا کیا تکلیف دہ حالات پیدا ہو جاتے۔یہ صحیح ہے کہ میں والد صاحب کا بہت ہی احترام کرتا تھا اور اسی احترام کے باعث میں گونہ حد سے زیادہ دبا ہوا بھی تھا اور ان کے منہ چڑھنا یا ان کا مقابلہ کرنا میرے واسطے ناممکن تھا۔مگر اس میں بھی شک نہیں کہ کسی کھلی تو ہین اور علی الاعلان تذلیل کو میں کبھی برداشت نہ کر سکتا۔اور یہ اللہ تعالیٰ کی ستاری تھی کہ ایسا موقعہ پیدا نہ ہونے دیا۔ع رسیده بود بلائے ولے بخیر گذشت مولوی صاحب موصوف کی یہ ملاقات خواہ وہ کتنی ہی دور سے ہوئی میرے لئے بڑی قوت وسکون اور تازگی کا باعث ہوگئی اور قادیان سے دور ہونے کی وجہ سے اگر کچھ زنگ طبیعت پر لگا بھی تھا تو اس ملاقات نے صیقل کا کام دیا اور میرے دل میں اس مقدس بستی اور اس کے رہنے والوں خصوصاً اس کی روح رواں ( حضرت مسیح موعود ) کی ذات والا صفات سے وابستگی کا تعلق اور نیاز مندی کے جذبات زیادہ سے زیادہ مضبوط ہو گئے۔مولوی صاحب کا آنا گویا ایک قسم کی روحانی غذا تھی جو اللہ کریم نے میرے لئے غیر متوقع طور سے اس بیا با نمیں مہیا فرما دی۔والدین درخت ایمان کے استیصال اور قادیان کی یاد سے محو کرنے کے لئے ایک حربہ کو غیر موثر پا کر دوسرا اختیار کر لیتے تھے۔بالآخر والد صاحب نے کثرت کا ر، ہم و غم اور اپنی کمزوری کے تذکرے کان میں ڈال کر مجھے اپنے ساتھ کام میں لگا لیا۔اور گرداوری۔پیمائش۔گشت۔دارہ بندی اور ملاقات حکام سب کام میں نے سنبھال لئے۔میں کام سے واپس آتا تو والدین اور بہن بھائی بھی ہاتھوں ہاتھ لیتے اور سر آنکھوں پر بٹھاتے اور خلاف معمول میری خاطر و مدارت ہونے لگی۔حکام کے پاس بھی میرے کام کی تعریف و توصیف کے تذکرے پہنچے اور میں نے اسی وجہ سے انہماک