اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 55 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 55

شام کو آپ نے علیحدگی میں نمازیں ادا کیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔اور کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر سو گئے۔مہمان نواز وں کو لڑکی کے رخصت کرنے کے متعلق بھی مصروفیت تھی۔آدھی رات کے بعد الوداع ہو کر اسی یکہ پر قافلہ روانہ ہو کر راوی کا تین ناؤ سے پار کر کے ڈیرہ بابا نا تک پہنچا اور تھوڑ اساستا کر اور گھوڑے کو تازہ دم کر کے براستہ فتح گڑھ چوڑیاں امرت سر پہنچا۔جہاں یکہ بان کو والد صاحب نے علاوہ کرایہ انعام دے کر رخصت کیا اور آپ کو ساتھ رکھتے ہوئے شہر سے ضروریات خرید کیں۔اس وقت تک آپ کو والد صاحب نے نماز سے نہیں روکا لیکن یہ چاہتے تھے کہ مخفی طور پر ادا کریں تا آپ کی اہلیہ کو اس کا علم نہ ہونے پائے۔اور قرآن مجید وغیرہ کتب والا ٹرنک بھی مقفل رکھتے تھے اور ان کتب کا احترام مدنظر رکھتے تھے۔امرتسر سے بذریعہ ریل گاڑی لاہور اور وہاں سے ملتان لائن کو روانہ ہو کر رات کو کسی اسٹیشن پر اتر پڑے جہاں ایک اونٹ اور دو گھوڑیوں کا انتظام تھا۔جو والد صاحب آتے وقت اپنے ساتھ واپسی کے انتظام کے طور پر لائے تھے۔راستہ پر خطر تھا بقیہ شب اور دن بھر چل کر اگلی شب کو جو نصف گذر چکی تھی۔قافلہ ڈ چکوٹ پہنچا۔جہاں والد صاحب کے ایک گہرے راز دار دوست پٹواری کے ہاں قیام ہوا۔آغاز دور مصائب محترم بھائی جی بیان کرتے ہیں کہ والد صاحب کی یہی کوشش تھی کہ اپنے ہیڈ کوارٹر میں پہنچیں جو اب صرف تین چار میل پر تھا لیکن سواریوں کے زیادہ تھک جانے کی وجہ سے مجبوراً مقام کرنا پڑا۔اور یہی وہ سرزمین ہے جہاں سے میرے واسطے مصائب کا دور شروع ہو گیا۔میں مشکلات میں چاروں طرف سے ایسا محصور ہوا کہ بارہا ان سے نجات کی راہ نہ دیکھ کر جان پر کھیل جانے کو جی کیا کرتا۔زمین باوجو د فراخی کے مجھے پر تنگ ہوگئی اور میں باوجود بھاگ نکلنے کی سچی کوشش کے بھاگنے کی راہ نہ پاتا تھا۔میری ما در مہربان اور شفیق باپ میری زندگی کو اپنے لئے ایک لعنت سمجھ کر میری موت کی تمنا کیا کرتے تھے۔میرے بہن بھائی جو کبھی میرے پسینہ کی جگہ اپنا خون گرانے میں لذت محسوس کرتے تھے میرے خون کے پیاسے ہورہے تھے۔اور یہ سلسلہ نہ صرف زبانی سختی اور طعن و تشنیع تک ہی محدود تھا بلکہ اس سے گذر کر ہاتھوں اور لاتوں تک اور پھر کھلتے کھلتے چھڑیوں اور لاٹھیوں کے وار اور مظاہرے بھی اکثر ہوا کئے اور ایک وقت تو حالت