اصحاب احمد (جلد 9) — Page 43
۴۳ کہ ایک بچہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے ایک رقعہ لایا اور زبانی یہ پیغام دیا کہ : اپنے والد صاحب کے دستخطوں سے اس مضمون کی ایک نقل کروا کر ہمیں بھیج۔دو اور تم اپنے والد صاحب کے ساتھ چلے جاؤ۔“ بچے کے منہ سے زبانی پیغام کے الفاظ نکلے اور میرے دل و دماغ میں بیٹھے مگر میں ان الفاظ کا مطلب نہ سمجھ سکا۔دوبارہ اور سہ بارہ پوچھا مگر بچے نے الفاظ ایسے رٹے ہوئے تھے کہ تینوں مرتبہ وہی الفاظ اسی ترتیب میں دہراتا رہا۔آخر میں نے حضور کا وہ فرمان کھولا پڑھا اور حقیقت مجھ پر آشکار ہوئی۔فرمان کا خلاصہ مطلب میرے اپنے الفاظ میں حسب ذیل تھا: میں فلاں ابن فلاں جو کہ میاں عبدالرحمن ( نو مسلم ) سابق ہریش چندر کا والد ہوں با قرار صالح پر میشور کے نام کی قسم اٹھا کر جو کہ میرا پیدا کرنے والا ہے اور جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امر کا پختہ اقرار اور پکا وعدہ کرتا ہوں کہ اپنے لڑ کے عبدالرحمن سابق ہریش چندر کو دو ہفتہ کے لئے اپنے ساتھ وطن کو لے جاتا ہوں تا کہ اس کی غمزدہ والدہ اور ننھے ننھے بھائی بہنوں کو بھی جو اس کی جدائی کے صدمہ سے بے قرار اور جان بلب ہیں ملا دوں۔میں پر ماتما کے نام سے یہ بھی پیمان کرتا ہوں کہ عزیز کو راستہ میں یا گھر لے جا کر کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچاؤں گا۔اور دو ہفتہ کے بعد حسب وعدہ صحیح و سلامت قادیان پہنچادوں گا۔دستخط مہتہ گوراند تامل موہن بقلم خود میں نے اس مضمون کو پڑھا اور بار بار پڑھا۔حضرت اقدس کے پہلے فیصلہ پر میں خوش تھا۔مگر اب مجھ پر اداسی اور پڑر مردگی چھا گئی۔اور دل میں طرح طرح کے وساوس پیدا ہونے لگے۔جی میں آیا کہ قبل اس کے کہ والد واپس آویں اور اس فیصلہ کا ان کو علم ہو میں کسی طرف نکل جاؤں کیونکہ میں جانتا تھا کہ والد صاحب مصلحت وقت کی وجہ سے نرم تھے ورنہ وہ میرے اسلام کی وجہ سے مجھے سخت تکلیف میں ڈالیں گے اور میرا یہ اندیشہ اس حد تک بڑھا ہوا تھا کہ شاید وہ مجھے زندہ ہی نہ چھوڑیں گے اور اس خیال کی تائید میں میرے اپنے گھرانے کے بعض پرانے واقعات میرے سامنے آن موجود ہوئے۔اور میں نے یقین کر لیا کہ آج ایک بھاری امتحان اور کٹھن گھاٹی میری راہ میں سد سکندری آن بنی ہے جس سے سلامت نکل جانا میری طاقت سے بالکل باہر ہے۔آخر میں چند منٹ کے لئے تنہائی میں چلا گیا اور خدا کے حضور جھک کر گڑ گڑایا اور اس سے امداد چاہی جس کے نتیجہ میں میرا بیٹھا ہوا دل اور ٹوٹی ہوئی کمر قوی ہو گئے اور