اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 42 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 42

۴۲ چونکہ والد صاحب کے ساتھ میں بھی حضرت کے ساتھ ساتھ ٹہلتا اور تمام باتیں سنتا رہا تھا اور ان کی غرض وغایت اور مقصود کا مجھے علم ہو چکا تھا۔میں نے نہایت ادب سے حضرت کے حضور عرض کیا۔حضور میں دل سے مسلمان ہوں اور حضور کی غلامی کی سعادت اللہ پاک نے مجھے محض اپنے فضل سے بخش دی ہے۔بے شک والدین اور بھائی بہنوں کی محبت میرے دل میں بے حد ہے۔مگر میں ابھی جانا نہیں چاہتا۔کیونکہ میں نے اسلام کے متعلق کچھ بھی نہیں سیکھا۔“ میری یہ عرض سن کر حضور نے والد صاحب کو بلا کر فرمایا: ہم ابھی عبدالرحمن کو آپ کے ساتھ نہیں بھیج سکتے۔بہتر ہے کہ آپ کو اگر فرصت ہو تو ہفتہ دو ہفتہ ان کے پاس ٹھہریں اور اگر آپ ملازمت کی وجہ سے نہ ٹھہر سکیں تو ان کی والدہ اور بھائی بہنوں کو یہاں بھیج دیں وہ ان کے پاس جتنا عرصہ چاہیں ٹھہریں۔ان کی آمد ورفت اور بودوباش کے اخراجات ہمارے ذمہ ہوں گے۔“ حضور یہ جواب دے کر اندر تشریف لے گئے اور میں والد صاحب کو ساتھ لے کر سید نا حضرت حکیم الامت مولانا نورالدین صاحب کے پاس مطب میں جا بیٹھا جہاں ان دنوں حضور کی کتاب ”ست بچن“ کی فرمہ شکنی اور مسل برداری ہو رہی تھی۔والد صاحب کے دل پر حضور کے اس فیصلہ کی وجہ سے رنج وغم کا غلبہ تھا اور ان کی دلی مایوسی کا اثر ان کے چہرہ سے نمایاں ہورہا تھا۔مگر میں خوش تھا اور والد صاحب کو بھی خوش کرنا چاہتا تھا۔کبھی دست بچن میں سے بابا نانک صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے حالات کے متعلق نظم پڑھ کر سناتا۔کبھی کسی اور طریق سے خدمت کر کے ان کی دلجوئی کی کوشش کرتا۔کچھ دیر بعد ایک ہند و آیا اور کھانے کے لئے والد صاحب کو ساتھ لے گیا۔والد صاحب کی واپسی میں تاخیر ہوئی۔دریافت سے معلوم ہوا کہ والد صاحب نے سیدنا حضرت اقدس کا فیصلہ قادیان کے آریہ لوگوں کو بتایا جس کے متعلق صلاح مشورے اور منصوبے ہوتے رہے اور اسی مصروفیت کے باعث والد صاحب جلدی واپس تشریف نہ لا سکے۔والد صاحب کے ساتھ واپسی کا حکم ظہر کی اذان ہو چکی یا ہونے والی تھی میں مطب میں بیٹھا کتاب ”ست بچن کی مسل برداری کر رہا تھا