اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 412 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 412

۴۱۲ ہاں اپنی مادر وطن اور جائے ولادت میں بطور مہمان و مسافر وارد ہوئے۔حضرت بھائی جی کو جب ہماری آمد کا علم ہوا تو آپ با وجود کافی کمزوری اور ضعیفی کے خود ہی تشریف لے آئے۔حالانکہ ہم نے تو بھائی جی کے پاس جانا ہی تھا۔مگر بھائی جی نے انتظار نہ فرمایا۔خود چلے آئے اور چھاتی سے لگا کر لمبا معانقہ کیا اور چونکہ تقسیم ملک کے بعد پہلی بار ملاقات ہوئی تھی اس لئے بڑی مسرت کا اظہار فرمایا۔اگر بھائی جی کی جگہ کوئی اور شخص ہوتا۔تو وہ یہ کہتا کہ واہ میں خود کیوں جاؤں وہ بچے ہیں ان کا فرض ہے وہ خود مجھے ملنے کے لئے آئیں۔مگر حضرت مسیح موعود کے اصحاب ان تکلفات اور ظاہر داریوں سے قطعی پاک تھے اور سادہ زندگی اور بے لوث محبت کے خوگر تھے۔حضرت والد صاحب کی تدفین کے وقت حضرت بھائی جی پر رقت طاری تھی اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے حضرت مسیح موعود کا زمانہ ہے اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ان کو چلتے پھرتے نظر آرہے تھے۔میرے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے بھائی جی آہستہ آہستہ جارہے تھے۔تدفین کا پورا منظر بڑے صبر سے دیکھا تدفین کے بعد دعا وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد احباب واپس لوٹ رہے تھے اس وقت آپ میرے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے آگے بڑھے اور اس زمین کے پاس آکر رک گئے جو ان کی قبر کے لئے ان کی زندگی میں مخصوص کر دی گئی تھی۔یہاں چند منٹ کے لئے رک گئے اور زمین پر ایک نظر ڈالی مجھ پر بھی اس کا اثر تھا۔تاہم وہاں سے چل پڑے جس قد ر ا حباب آئے تھے وہ آگے نکل گئے اور حضرت بھائی جی اور میں ہی پیچھے رہ گئے۔آپ پر رقت طاری تھی۔گویا کسی عذر کی تلاش میں تھے کہ جس پر آنسو بہر نکلیں۔میرے منہ سے یہ بات نکل گئی کہ بھائی جی اگر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں زید بن حارثہ کو بلند مقام حاصل ہوا۔تو حضرت مسیح موعود کے اصحاب میں بھی یہ نظیر ملتی ہے میری بات ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ بھائی جی نے ایک دلدوز چیخ ماری اور پھوٹ پھوٹ کر روئے اور مجھے بھی رلایا۔اس طرح سے وہ آنسو جو انہوں نے روک رکھے تھے۔بہائے میں واپسی سے قبل آپ سے ملاقات کرنے گیا تو آپ نے آخری نصیحت مجھے کی اور بڑی شفقت سے پُر اثر آواز میں کہا کہ بچے! ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنا اور خاندان مسیح موعود سے محبت اور ان کی عزت و تکریم کرنا۔ان کے یہ الفاظ سن کر میں چونک پڑا۔اور مجھے کچھ بنی بھی آئی۔کیونکہ یہی الفاظ حضرت والد صاحب بار بار ہم سب سے فرما چکے تھے مجھے جنسی اس لئے آئی کہ حضرت اقدس کے صحابہ میں سے ایک کی زبان سے