اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 405 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 405

۴۰۵ مجھ سے فرمانے لگے کہ بچے ! ان لوگوں کو کیا معلوم ! میں تو اس نورانی چہرہ (حضرت امیر المومنین ) کو دیکھنے کے لئے جا رہا ہوں جس کے لئے میری روح تڑپ رہی ہے اور دل بے تاب ہو رہا ہے۔“ تمام راستہ میں اور پھر ربوہ میں آپ قادیان کی جدائی بہت ہی محسوس کرتے رہے اور بار بار آپ یہ شعر پڑھتے تھے زمین قادیاں اب محترم ہے ہجوم خلق ޏ ارض حرم ہے قافلہ کے افراد واراکین کی باہم محبت اور ان کے جذبہ و اطاعت کو دیکھ کر کئی دفعہ آپ نے فرمایا کہ یہ سب حضرت مسیح پاک کی برکت کا نتیجہ ہے ورنہ یہ اطاعت و محبت دنیا میں کہیں نظر نہیں آئے گی۔قافلہ کی وجہ سے جو سہولتیں سفر میں میسر آئیں ان کا ذکرتے ہوئے فرمایا کہ واقعی ید الله عـلـى الجماعة كا نظاره جماعت احمدیہ سے بڑھ کر اور کہاں نظر آئے گا۔چونکہ سفر کی کوفت اور سردی کی شدت اور طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے آپ جلسہ میں شریک نہ ہو سکے اس لئے میں حسب ارشاد روزانہ شام کو جا کر آپ کی خدمت میں جلسہ کی کارروائی سنایا کرتا تھا۔۲۹ / دسمبر کو قادیان کو واپس آتے وقت حضرت بھائی جی کی خدمت میں حاضر ہوکر جب میں نے اجازت مانگی تو آپ نے بہت درد بھرے لہجہ میں فرمایا کہ مجھے یہاں پر چھوڑ کر جارہے ہو۔دعا کرو کہ خدا تعالیٰ مجھے جلد ہی اپنے پیارے محبوب کے مسکن میں لے جائے۔حضرت بھائی جی سے اس وقت رخصت ہوتے وقت مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ سے یہ میری آخری ملاقات ہے۔آپ صحیح معنوں میں ایک عاشق قرآن تھے جس کی ہر آیت سے آپ کو بے انتہا انس تھا۔آپ کی خواہش پر نصف سال سے روزانہ بعد نماز فجر آپ کو قرآن پاک سنا تا تھا۔کیونکہ آپ کی نظر کی کمزوری کی وجہ سے خود تلاوت قرآن نہیں کر سکتے تھے۔فجر کی نماز سے فارغ ہو کر قرآن کریم اپنے سینہ پر رکھ کر لیٹ جاتے اور میرا انتظار فرمایا کرتے تھے۔کوئی دن ایسا نہیں گذرا کہ تلاوت کے وقت آپ پر رقت طاری نہ ہوتی ہو۔تلاوت کیا تھی وہاں پر ایک روحانی سماں بندھ جاتا تھا۔خشیت ومحبت الہی سے بعض اوقات آپ بے اختیار رو پڑتے تھے۔ہدایت یافتہ لوگوں کے ذکر پر فرماتے الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدْنَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدْنَا اللهُ - اور ان لوگوں پر خدا کی رحمت و نعمت کا ذکر آتے وقت کئی دفعہ کہہ اٹھتے کہ ۲۶۲