اصحاب احمد (جلد 9) — Page 403
۴۰۳ تاثرات تاثرات مولوی محمد عمر صاحب مالا باری بوقت تحریر تا ثرات ، آپ احمد یہ مدرسہ قادیان کے طالب علم تھے۔بوقت طبع دوم آپ انچارج مبلغ کیرالہ ہیں۔آپ لکھتے ہیں : قریباً ڈیڑھ سال سے خاکسار کو حضرت بھائی جی کی خاص طور پر خدمت کرنے کی سعادت خدا تعالیٰ نے بخشی تھی۔آپ کے ارشاد کے مطابق خاکسار روزانہ صبح و شام آپ کے گھر حاضر ہوتا۔آپ اور اماں جی ( آپ کی اہلیہ محترمہ ) اس ناچیز سے والدین کی طرح محبت و شفقت سے پیش آتے تھے اس وجہ سے میں آپ کو ابا جی کہہ کر یا د کرتا تھا۔چنانچہ جب میں میٹرک میں اپنی کامیابی کی خبر سنانے گیا۔تو آپ نے لپک کر مجھے سینے سے لگا لیا اور دیر تک لگائے رکھا اور پیشانی پر بوسہ دیا اور اپنی قیمتی دعاؤں سے نوازا۔آپ کی وفات کے بعد میں اپنے تئیں حقیقتا یتیم سمجھتا ہوں۔آپ اپنے اسلام قبول کرنے کے ایمان افروز حالات اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے واقعات سنایا کرتے تھے۔قبول احمدیت کے بعد اپنے والدین اور عزیز واقارب کو چھوڑ کر قادیان میں ہجرت کر کے آنے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے کہ خدا تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ b ۲۶۱ وَمَنْ يُهَاجِرْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَجِدُ فِي الْأَرْضِ مُرغَمًا كَثِيرًا وَسَعَةً - یعنی جو شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں ہجرت اختیار کرتا ہے وہ زمین میں کئی پناہ گاہیں اور کشائش پالیتا ہے۔میرے حق میں اپنے پوری شان و شوکت کے ساتھ پورا ہوا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود کے قدموں کی غلامی کی خاطر میں نے اپنا سب کچھ چھوڑ دیا۔خدا تعالیٰ نے اس کے عوض مجھے سب کچھ عطا فرمایا۔قادیان میں اس نے مجھے بہترین گھر دیا۔نیک اولا د بھی عطا کی۔آپ حضرت مسیح موعود کا یہ کلام پڑھتے۔