اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 358 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 358

۳۵۸ وو - لد ۲۱۳ گورداسپور میں قائم کردہ مرکز جماعت اسلامی دار السلام کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے لکھا کہ ہم عاجز ہیں لیکن اتنے بھی ہے نہیں کہ جماعت اسلامی کے ارکان کو اولیاء اللہ کی صف میں جگہ دیں۔آدمی تو ہر شخص اکٹھا کر لیتا ہے۔مرزا غلام احمد نے بھی جمع کر لئے تھے۔فضلاء کی ایک بڑی جماعت ان کی جاں نثار ہے۔پھر یہ واقعہ نہیں ؟ کہ دار السلام کے چابی برداروں میں اکثر برقع پہن کر بھاگ نکلے تھے۔مگر مرزا غلام احمد کے پیرو آج تک قادیان کی حفاظت تین سو تیرہ کی جتھہ بندی سے کر رہے ہیں۔۴ - جماعت اسلامی کا تر جمان المنبر لائل پورے / مارچ ۱۹۵۶ء کی اشاعت میں لکھتا ہے: ی وہ واحد جماعت ہے جس کے ۳۱۳ افراد تقسیم کے لمحہ سے آج تک قادیان میں موجود ہیں۔اور وہاں اپنے مشن کیلئے کوشاں بھی ہیں اور منظم بھی۔“ حضرت مصلح موعودؓ نے مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء میں تحریک فرمائی کہ عشاق احمدیت قادیان کے مقامات کو آباد کرنے کیلئے اپنے تئیں پیش کریں۔اس آواز پر لبیک کہنے والے ایک خوش نصیب پینتیس احباب پر مشتمل قافلہ کو آغا ز ماہ مئی ۱۹۴۸ء میں حضور نے شرف مصافحہ بخشا اور اجتماعی دعا کے ساتھ الوداع کہا۔اس قافلہ میں بارہ صحابہ تھے۔جن میں حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب (امیر قافلہ ) اور حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی جیسے قدیم و ممتاز صحابہ بھی شامل تھے۔یہ قافلہ ٹرکوں کے ذریعہ قادیان پہنچا۔ملٹری چوکی کے افسران نے اس قافلہ کی اسم وار فہرست تیار کی۔پھر یہ قافلہ مجسٹریٹ صاحب، ملٹری پولیس کی کافی تعداد، چند سائیکل سواروں اور ایک دو شہسواروں کے جھرمٹ میں محلہ دارالشکر ہوتے اور (احمدیہ ) فروٹ فارم ، اسٹیشن اور کوٹھی حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال (کے پاس) سے گذرتے ہوئے دارلانوار کی بڑی سڑک سے شہر میں داخل ہوا۔اور حضرت مولوی عبدالمغنی خاں صاحب اور نیک محمد خاں صاحب غزنوی کے مکان پر جا کر رکا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ کے نام ایک خصوصی مکتوب میں اس واقعہ پر یہ بھی رقم فرمایا کہ ۲۱۴ جملہ درویشوں کو میری طرف سے بعد سلام یہ پیغام پہنچا دیں کہ وہ ان بزرگوں کی آمد کو ایک خدائی نعمت سمجھتے ہوئے ان کی صحبت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔اور ان کے علم و عمل کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں۔صحابہ کا مقدس گروہ دن بدن کم ہوتا جارہا ہے۔باوجود اس کے ہم انہیں اپنے